صحیح بخاری حدیث ۵۵۶۷ - قربانی کا گوشت ساتھ رکھنا
قربانی کا گوشت جمع کرنا اور سفر میں ساتھ لے جانا
صحیح بخاری : ۵۵۶۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۵۶۷
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَمْرٌو ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " كُنَّا نَتَزَوَّدُ لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، وَقَالَ : غَيْرَ مَرَّةٍ لُحُومَ الْهَدْيِ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
مدینہ پہنچنے تک ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قربانی کا گوشت جمع کرتے تھے اور کئی مرتبہ (بجائے «لحوم الأضاحي» کے) «لحوم الهدى.» کا لفظ استعمال کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۵۶۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں قربانی کا گوشت جمع کرنے اور اسے سفر میں ساتھ رکھنے کا ذکر ہے۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صحابہ قربانی کا گوشت مدینہ پہنچنے تک ساتھ رکھتے تھے۔ متن میں کبھی لحوم الأضاحي اور کبھی لحوم الهدى کا لفظ آیا ہے، یعنی بات قربانی یا ہدی کے گوشت سے متعلق ہے۔ اس حدیث سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ قربانی کا گوشت صرف اسی وقت فوراً ختم کرنا لازم نہیں تھا، بلکہ صحابہ اسے زاد راہ کے طور پر بھی رکھتے تھے۔ یہاں اصل پیغام یہ ہے کہ قربانی کا گوشت فائدے کے لیے محفوظ کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر جب سفر ہو اور ضرورت پیش آئے۔ اس میں سادگی بھی ہے اور کھانے کو ضائع نہ کرنے کا سبق بھی ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قربانی کا گوشت ضرورت کے لیے ساتھ رکھا جا سکتا ہے۔
- صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قربانی کا گوشت مدینہ تک لے جاتے تھے۔
- کھانے کی چیز کو درست طریقے سے استعمال کرنا بہتر ہے۔
- قربانی کے گوشت سے خود بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
