صحیح بخاری حدیث ۵۵۸۳ - شراب کی حرمت پر فوری ردعمل
شراب حرام ہوئی تو صحابہ نے فوراً اسے الٹ دیا
صحیح بخاری : ۵۵۸۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۵۸۳
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، قَالَ : كُنْتُ قَائِمًا عَلَى الْحَيِّ أَسْقِيهِمْ عُمُومَتِي ، وَأَنَا أَصْغَرُهُمُ الْفَضِيخَ ، فَقِيلَ : حُرِّمَتِ الْخَمْرُ ، فَقَالُوا : أَكْفِئْهَا ، فَكَفَأْتُهَا ، قُلْتُ لِأَنَسٍ : مَا شَرَابُهُمْ ؟ ، قَالَ : رُطَبٌ وَبُسْرٌ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ وَكَانَتْ خَمْرَهُمْ فَلَمْ يُنْكِرْ أَنَسٌ ، وَحَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِي ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ .
انس روایت:
ایک قبیلہ میں کھڑا میں اپنے چچاؤں کو کھجور کی شراب پلا رہا تھا میں ان میں سب سے کم عمر تھا۔ کسی نے کہا کہ شراب حرام کر دی گئی۔ ان حضرات نے کہا کہ اب اسے پھینک دو۔ چنانچہ ہم نے شراب پھینک دی۔ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ وہ کس چیز کی شراب بنتی تھی؟ فرمایا کہ تازہ پکی ہوئی اور کچی کھجوروں کی۔ابوبکر بن انس نے کہا کہ ان کی شراب (کھجور کی) ہوتی تھی تو انس رضی اللہ عنہ نے اس کا انکار نہیں کیا اور مجھ سے میرے بعض اصحاب نے بیان کیا کہ انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ اس زمانہ میں ان کی شراب اکثر کچی اور پکی کھجور سے تیار کی جاتی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۵۵۸۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں انس رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ وہ اپنے قبیلے میں کھڑے اپنے چچاؤں کو کھجور کی شراب پلا رہے تھے اور وہ ان میں سب سے کم عمر تھے۔ کسی نے کہا کہ شراب حرام کر دی گئی ہے۔ یہ سنتے ہی ان حضرات نے کہا کہ اسے الٹ دو، چنانچہ انس رضی اللہ عنہ نے شراب الٹ دی۔ پھر پوچھا گیا کہ وہ شراب کس چیز کی تھی؟ انس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ تازہ پکی ہوئی اور کچی کھجوروں کی تھی۔ روایت کے آخر میں بھی یہی بات آتی ہے کہ اس زمانے میں ان کی شراب اکثر کچی اور پکی کھجور سے بنتی تھی۔ یہ حدیث شراب کی حرمت، کھجور سے بنی شراب، اور صحابہ کی فوری فرمانبرداری تینوں باتیں واضح کرتی ہے۔ حکم معلوم ہوتے ہی انہوں نے پرانی عادت کو چھوڑ دیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شراب کی حرمت معلوم ہوتے ہی اسے الٹ دیا گیا۔
- اس روایت میں شراب تازہ پکی اور کچی کھجور سے بنی تھی۔
- کم عمر انس رضی اللہ عنہ نے بڑوں کے حکم پر عمل کیا۔
- دینی حکم آنے کے بعد تاخیر نہ کرنا صحابہ کے عمل سے ظاہر ہے۔
