صحیح بخاری حدیث ۵۵۹ - مغرب کے بعد روشنی باقی

مغرب کی نماز کا وقت: تیر کی جگہ دکھائی دیتی تھی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۵۹

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو النَّجَاشِيِّ صُهَيْبٌ مَوْلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيج ، يَقُولُ : " كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا وَإِنَّهُ لَيُبْصِرُ مَوَاقِعَ نَبْلِهِ " .

رافع بن خدیج روایت:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم مغرب کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھ کر جب واپس ہوتے اور تیر اندازی کرتے (تو اتنا اجالا باقی رہتا تھا کہ) ایک شخص اپنے تیر گرنے کی جگہ کو دیکھتا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۵۵۹ کا خلاصہ

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اس حدیث میں بتاتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے، پھر واپس ہوتے اور تیر اندازی کرتے تو آدمی اپنے تیر گرنے کی جگہ دیکھ لیتا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مغرب کی نماز ایسے وقت ادا ہوتی تھی جب کچھ روشنی باقی رہتی تھی۔ روایت کا بیان بہت مختصر اور واضح ہے: نماز مغرب، واپسی، تیر اندازی، اور تیر کی جگہ کا دکھائی دینا۔ اس سے مغرب کے وقت کی ایک عملی پہچان ملتی ہے، مگر حدیث میں مزید تفصیلی احکام نہیں دیے گئے۔ اس لیے اسے صرف اس بات کے لیے استعمال کرنا چاہیے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ مغرب وقت پر اور اتنی جلد ادا ہوتی کہ بعد میں روشنی باقی رہتی۔ مغرب کی نماز کا وقت اور مغرب جلدی پڑھنے کی حدیث کے لیے یہ روایت بہت اہم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مغرب کی نماز کے بعد کچھ روشنی باقی رہتی تھی۔
  • صحابہ تیر گرنے کی جگہ دیکھ سکتے تھے۔
  • حدیث مغرب کے وقت کو عملی مثال سے سمجھاتی ہے۔
  • روایت سے مغرب کو وقت پر ادا کرنے کا انداز معلوم ہوتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں