صحیح بخاری حدیث ۵۶۰ - پانچ نمازوں کے وقت کا بیان

پانچ نمازوں کے اوقات: جابر رضی اللہ عنہ کی جامع روایت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۶۰

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : قَدِمَ الْحَجَّاجُ فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ نَقِيَّةٌ ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتْ ، وَالْعِشَاءَ أَحْيَانًا وَأَحْيَانًا إِذَا رَآهُمُ اجْتَمَعُوا عَجَّلَ ، وَإِذَا رَآهُمْ أَبْطَوْا أَخَّرَ ، وَالصُّبْحَ كَانُوا أَوْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا بِغَلَسٍ " .

محمد بن عمرو بن حسن بن علی روایت:

حجاج کا زمانہ آیا (اور وہ نماز دیر کر کے پڑھایا کرتا تھا اس لیے) ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز ٹھیک دوپہر میں پڑھایا کرتے تھے۔ ابھی سورج صاف اور روشن ہوتا تو نماز عصر پڑھاتے۔ نماز مغرب وقت آتے ہی پڑھاتے اور نماز عشاء کو کبھی جلدی پڑھاتے اور کبھی دیر سے۔ جب دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گئے ہیں تو جلدی پڑھا دیتے اور اگر لوگ جلدی جمع نہ ہوتے تو نماز میں دیر کرتے۔ (اور لوگوں کا انتظار کرتے) اور صبح کی نماز صحابہ رضی اللہ عنہم یا (یہ کہا کہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندھیرے میں پڑھتے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۶۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے نماز کے اوقات کا جامع بیان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ آپ صلى الله عليه وسلم ظہر دوپہر میں پڑھاتے، عصر اس وقت جب سورج صاف اور روشن ہوتا، مغرب وقت آتے ہی پڑھاتے، اور عشاء کبھی جلدی اور کبھی دیر سے پڑھاتے۔ عشاء کے بارے میں ایک خاص بات یہ آئی کہ جب لوگ جمع ہو جاتے تو آپ صلى الله عليه وسلم جلدی پڑھا دیتے، اور اگر لوگ دیر سے آتے تو انتظار فرماتے۔ فجر کے بارے میں اندھیرے میں پڑھنے کا ذکر ہے۔ یہ حدیث اوقات نماز، عشاء کا وقت، فجر کا وقت، مغرب وقت پر پڑھنا، اور جماعت کے حالات کا لحاظ کرنے کے بارے میں آسان اور عملی رہنمائی دیتی ہے۔ متن میں حجاج کے زمانے کا سوال بھی آیا ہے، مگر اصل جواب نبی صلى الله عليه وسلم کے معمول پر ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ظہر دوپہر کے وقت، اور عصر روشن سورج کے وقت ادا ہوتی تھی۔
  • مغرب وقت آتے ہی پڑھی جاتی تھی۔
  • عشاء میں لوگوں کے جمع ہونے کا لحاظ رکھا جاتا تھا۔
  • فجر کے بارے میں اندھیرے میں پڑھنے کا ذکر آیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں