صحیح بخاری حدیث ۵۶۲۸ - مشک سے براہ راست پانی نہ پینا

مشک سے پانی پینے کا اسلامی ادب

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۶۲۸

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُشْرَبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ سے پانی پینے کی ممانعت فرما دی تھی۔

صحیح بخاری حدیث ۵۶۲۸ کا خلاصہ

یہ حدیث بہت مختصر ہے، مگر اس کا پیغام صاف ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ سے پانی پینے کی ممانعت فرمائی۔ عام بول چال میں اس کا مطلب یہ ہے کہ پانی پیتے وقت برتن یا پانی رکھنے والی چیز کے منہ سے براہ راست منہ نہ لگایا جائے۔ اس حدیث کا اصل موضوع پینے کے آداب ہے۔ انسان اکثر پانی پینے کو معمولی کام سمجھتا ہے، لیکن اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے روزمرہ کاموں میں بھی امت کو صاف ہدایت دی۔ اس میں صفائی، احتیاط اور اچھے طریقے کا پہلو سمجھ آتا ہے، مگر ہم حدیث سے اتنا ہی قطعی کہتے ہیں کہ مشک کے منہ سے پینا منع کیا گیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مشک کے منہ سے پانی پینے کی ممانعت آئی ہے۔
  • پانی پینے کا طریقہ بھی سنت کی پیروی کے دائرے میں آتا ہے۔
  • مختصر حدیث بھی عملی زندگی کے لیے بڑی رہنمائی دے سکتی ہے۔
  • روزمرہ عادتوں میں احتیاط اور ادب اختیار کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں