صحیح بخاری حدیث ۵۶۲۶ - مشک کے منہ سے پانی پینے کی ممانعت
مشک کے منہ سے پانی پینے کی حدیث اور پینے کے آداب
صحیح بخاری : ۵۶۲۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۶۲۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ : " سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : قَالَ مَعْمَرٌ : أَوْ غَيْرُهُ هُوَ الشُّرْبُ مِنْ أَفْوَاهِهَا .
ابو سعید خدری روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے مشکوں میں «اختناث» سے منع فرمایا ہے۔ عبداللہ نے بیان کیا کہ معمر نے بیان کیا یا ان کے غیر نے کہ «اختناث» مشک سے منہ لگا کر پانی پینے کو کہتے ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۵۶۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع پینے کے آداب ہے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے مشکوں میں اختناث سے منع فرمایا۔ روایت ہی میں اس لفظ کی وضاحت بھی آتی ہے کہ اختناث سے مراد مشک کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینا ہے۔ آسان لفظوں میں اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پانی پیتے وقت برتن یا مشک کے استعمال میں احتیاط اور ادب مطلوب ہے۔ یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ روزمرہ کی چھوٹی عادتیں بھی دین میں اہم ہیں۔ پینے کا طریقہ صرف ذاتی پسند کا معاملہ نہیں، بلکہ مسلمان کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق ہونا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مشک کے منہ سے براہ راست پانی پینے سے منع کیا گیا ہے۔
- پانی پینے میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے آداب کا خیال رکھنا چاہیے۔
- چھوٹی عادتوں میں بھی دین کی رہنمائی موجود ہے۔
- حدیث کے الفاظ کو سمجھنے کے لیے روایت میں آئی وضاحت کو اہم سمجھنا چاہیے۔
