صحیح بخاری حدیث ۵۶۳۰ - برتن میں سانس نہ لینے کی حدیث

برتن میں سانس نہ لینے اور طہارت کے آداب

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۶۳۰

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الْإِنَاءِ ، وَإِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَمْسَحْ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ ، وَإِذَا تَمَسَّحَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَمَسَّحْ بِيَمِينِهِ " .

´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص پانی پئے تو (پینے کے) برتن میں (پانی پیتے ہوئے) سانس نہ لے اور جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب کرے تو داہنے ہاتھ کو ذکر پر نہ پھیرے اور جب استنجاء کرے تو داہنے ہاتھ سے نہ کرے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۶۳۰ کا خلاصہ

یہ حدیث پینے کے آداب اور طہارت کے آداب دونوں کو بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی پانی پئے تو برتن میں سانس نہ لے۔ اس سے پینے کے وقت احتیاط اور اچھے طریقے کی تعلیم ملتی ہے۔ اسی حدیث میں یہ بھی فرمایا گیا کہ جب کوئی پیشاب کرے تو اپنے دائیں ہاتھ کو ذکر پر نہ پھیرے، اور جب استنجاء کرے تو دائیں ہاتھ سے نہ کرے۔ اس روایت میں دائیں ہاتھ کے احترام اور صفائی کے کاموں میں مناسب طریقہ اختیار کرنے کی ہدایت موجود ہے۔ حدیث کا انداز بہت عملی ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ مسلمان کی پاکیزگی صرف بڑے کاموں میں نہیں بلکہ پانی پینے، پیشاب اور استنجاء جیسے روزمرہ معاملات میں بھی دیکھی جاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • پانی پیتے وقت برتن کے اندر سانس نہیں لینا چاہیے۔
  • استنجاء کے لیے دائیں ہاتھ کا استعمال نہ کرنے کی ہدایت آئی ہے۔
  • طہارت اور پینے کے آداب دونوں دین کا حصہ ہیں۔
  • دائیں ہاتھ کے استعمال میں ادب اور فرق کا خیال رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں