صحیح بخاری حدیث ۵۶۳۳ - سونے چاندی کے پیالوں سے پرہیز

سونے چاندی کے پیالوں میں نہ پینے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۶۳۳

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ حُذَيْفَةَ وَذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَشْرَبُوا فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ ، وَلَا تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ وَالدِّيبَاجَ ، فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ " .

ابن ابی لیلیٰ روایت:

ہم حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ سونے اور چاندی کے پیالہ میں نہ پیا کرو اور نہ ریشم و دیبا پہنا کرو کیونکہ یہ چیزیں ان کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں۔

صحیح بخاری حدیث ۵۶۳۳ کا خلاصہ

اس حدیث کا بنیادی موضوع حرام یا ممنوع استعمال ہے۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سونے اور چاندی کے پیالہ میں نہ پیا کرو، اور ریشم و دیبا نہ پہنا کرو۔ پھر وجہ بھی بیان فرمائی کہ یہ چیزیں ان کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں۔ اس حدیث کا پیغام سادہ ہے: مسلمان کو کھانے پینے اور پہننے میں ایسی چیزوں سے بچنا چاہیے جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔ یہاں بحث کا اصل مرکز سونے چاندی کے برتن میں پینا اور ریشمی لباس ہے۔ یہ روایت دنیا کی چمک کے مقابلے میں آخرت کی امید کو سامنے رکھتی ہے، مگر حد سے بڑھا کر کوئی اضافی حکم گھڑنا درست نہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سونے اور چاندی کے پیالوں میں پینے سے منع کیا گیا ہے۔
  • ریشم اور دیبا پہننے کی ممانعت بیان ہوئی ہے۔
  • مسلمان کو دنیاوی دکھاوے کے بجائے آخرت کو یاد رکھنا چاہیے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں