صحیح بخاری حدیث ۵۶۳۴ - چاندی کے برتن میں پینے کی سخت وعید

چاندی کے برتن میں پینے کی حدیث اور وعید

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۶۳۴

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الَّذِي يَشْرَبُ فِي إِنَاءِ الْفِضَّةِ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ " .

ام سلمہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص چاندی کے برتن میں کوئی چیز پیتا ہے تو وہ شخص اپنے پیٹ میں دوزخ کی آگ بھڑکا رہا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۶۳۴ کا خلاصہ

یہ حدیث چاندی کے برتن میں پینے کی ممانعت کو بہت سخت انداز میں بیان کرتی ہے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص چاندی کے برتن میں کوئی چیز پیتا ہے، وہ اپنے پیٹ میں دوزخ کی آگ بھڑکا رہا ہے۔ اس حدیث کا اصل موضوع چاندی کے برتن میں پینا ہے۔ یہاں الفاظ سخت ہیں، اس لیے مسلمان کو اس معاملے کو ہلکا نہیں لینا چاہیے۔ یہ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ کھانے پینے کے برتن کا انتخاب بھی دین کے حکم سے خالی نہیں۔ چاندی کے برتن کو محض خوبصورتی یا شان کی وجہ سے استعمال کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس واضح ممانعت کے خلاف ہے۔ اس لیے اس حدیث کا سبق سادہ ہے: چاندی کے برتن میں پینے سے بچا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • چاندی کے برتن میں پینے پر سخت وعید آئی ہے۔
  • کھانے پینے کے برتن کے انتخاب میں شرعی حد کا خیال ضروری ہے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت ممانعت کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
  • ظاہری شان کے بجائے حکم کی پابندی کو ترجیح دینی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں