صحیح بخاری حدیث ۵۶۳۸ - نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیالے کی حفاظت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیالے کو محفوظ رکھنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۶۳۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۶۳۸
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُدْرِكٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ قَدَحَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَكَانَ قَدِ انْصَدَعَ فَسَلْسَلَهُ بِفِضَّةٍ ، قَالَ : وَهُوَ قَدَحٌ جَيِّدٌ عَرِيضٌ مِنْ نُضَارٍ ، قَالَ : قَالَ أَنَسٌ : لَقَدْ سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْقَدَحِ أَكْثَرَ مِنْ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ : إِنَّهُ كَانَ فِيهِ حَلْقَةٌ مِنْ حَدِيدٍ ، فَأَرَادَ أَنَسٌ أَنْ يَجْعَلَ مَكَانَهَا حَلْقَةً مِنْ ذَهَبٍ ، أَوْ فِضَّةٍ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو طَلْحَةَ : لَا تُغَيِّرَنَّ شَيْئًا صَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَرَكَهُ " .
عاصم احول روایت:
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیالہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس دیکھا ہے وہ پھٹ گیا تھا تو انس رضی اللہ عنہ نے اسے چاندی سے جوڑ دیا۔ پھر عاصم نے بیان کیا کہ وہ عمدہ چوڑا پیالہ ہے۔ چمکدار لکڑی کا بنا ہوا۔ بیان کیا کہ انس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے اس پیالہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بارہا پلایا ہے۔راوی نے بیان کیا کہ ابن سیرین نے کہا کہ اس پیالہ میں لوہے کا ایک حلقہ تھا۔ انس رضی اللہ عنہ نے چاہا کہ اس کی جگہ چاندی یا سونے کا حلقہ جڑوا دیں لیکن ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنایا ہے اس میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ کرو چنانچہ انہوں نے یہ ارادہ چھوڑ دیا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۶۳۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیالے کا تفصیلی ذکر ہے۔ عاصم احول بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے وہ پیالہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس دیکھا۔ وہ پیالہ پھٹ گیا تھا، تو انس رضی اللہ عنہ نے اسے چاندی سے جوڑ دیا۔ روایت میں پیالے کی صفت بھی آئی کہ وہ چوڑا اور عمدہ تھا، چمکدار لکڑی کا بنا ہوا تھا۔ انس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہوں نے اسی پیالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی بار پلایا۔ پھر ابن سیرین کے بیان کے مطابق اس میں لوہے کا حلقہ تھا۔ انس رضی اللہ عنہ نے اس کی جگہ چاندی یا سونے کا حلقہ لگانے کا ارادہ کیا، مگر ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جس چیز کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنایا ہے، اسے نہ بدلو، چنانچہ انہوں نے ارادہ چھوڑ دیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- انس رضی اللہ عنہ کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیالہ موجود تھا۔
- پیالہ پھٹنے پر اسے چاندی سے جوڑا گیا۔
- ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بنائی ہوئی چیز کو نہ بدلنے کا مشورہ دیا۔
- صحابہ کرام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت رکھنے والی چیزوں کا خیال رکھتے تھے۔
