صحیح بخاری حدیث ۵۶۴۰ - مصیبت گناہوں کا کفارہ بنتی ہے
مصیبت گناہوں کا کفارہ ہے: صبر کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۶۴۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۶۴۰
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مُصِيبَةٍ تُصِيبُ الْمُسْلِمَ إِلاَّ كَفَّرَ اللَّهُ بِهَا عَنْهُ، حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا».
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مصیبت بھی کسی مسلمان کو پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ اسے اس کے گناہ کا کفارہ کر دیتا ہے (کسی مسلمان کے) ایک کانٹا بھی اگر جسم کے کسی حصہ میں چبھ جائے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۶۴۰ کا خلاصہ
یہ حدیث مصیبت اور تکلیف کے بارے میں مسلمان کو تسلی دیتی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مصیبت بھی کسی مسلمان کو پہنچتی ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس کے گناہ کا کفارہ کر دیتا ہے، یہاں تک کہ اگر کسی مسلمان کو کانٹا بھی چبھ جائے۔ اس حدیث کا بنیادی موضوع صبر اور گناہوں کا کفارہ ہے۔ یہاں یہ بات نہیں کہ انسان تکلیف مانگے، بلکہ حدیث یہ بتاتی ہے کہ جب تکلیف آ جائے تو وہ مسلمان کے حق میں ضائع نہیں جاتی۔ چھوٹی تکلیف، جیسے کانٹا چبھنا، بھی اللہ کے ہاں سبب بن سکتی ہے کہ گناہ معاف ہوں۔ اس سے دل کو حوصلہ ملتا ہے کہ بیماری، دکھ یا معمولی جسمانی تکلیف میں بھی اللہ کی رحمت کا پہلو ہو سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمان کو پہنچنے والی مصیبت گناہوں کے کفارے کا سبب بنتی ہے۔
- کانٹا چبھنے جیسی چھوٹی تکلیف بھی حدیث میں ذکر ہوئی ہے۔
- تکلیف کے وقت مسلمان کو اللہ کی رحمت سے امید رکھنی چاہیے۔
- مصیبت کو بے فائدہ سمجھ کر مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
