صحیح بخاری حدیث ۵۶۴۵ - جس کے ساتھ اللہ خیر چاہے اسے آزماتا ہے
اللہ جس کے ساتھ خیر چاہے اسے آزمائش دیتا ہے
صحیح بخاری : ۵۶۴۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۶۴۵
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ يَسَارٍ أَبَا الْحُبَابِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ " .
محمد بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ روایت:
میں نے سعید بن یسار ابوالحباب سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر و بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے بیماری کی تکالیف اور دیگر مصیبتوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۶۴۵ کا خلاصہ
یہ حدیث آزمائش اور خیر کے تعلق کو بہت مختصر الفاظ میں بیان کرتی ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر و بھلائی کرنا چاہتا ہے، اسے بیماری کی تکالیف اور دیگر مصیبتوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اس حدیث کا موضوع مصیبت اور اللہ کی خیر ہے۔ عام طور پر انسان تکلیف کو صرف نقصان سمجھتا ہے، لیکن اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض تکلیفیں بندے کے لیے خیر کا سبب بن سکتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان بیماری یا مصیبت مانگے، بلکہ جب ایسی حالت آ جائے تو وہ اللہ سے حسن ظن رکھے، صبر کرے اور جائز علاج و تدبیر بھی اختیار کرے۔ حدیث کی اصل بات یہی ہے کہ آزمائش کو ہمیشہ اللہ کی ناراضی سمجھ لینا درست نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے اسے آزمائش میں مبتلا کر سکتا ہے۔
- بیماری اور مصیبت ہمیشہ صرف نقصان کے معنی میں نہیں ہوتیں۔
- مشکل وقت میں اللہ کے بارے میں اچھا گمان رکھنا چاہیے۔
- حدیث انسان کو تکلیف میں صبر اور امید کا راستہ دکھاتی ہے۔
