صحیح بخاری حدیث ۵۶۴۴ - مومن آزمائش میں جھکتا مگر سنبھلتا ہے
مومن اور بدکار کی مثال: آزمائش کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۶۴۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۶۴۴
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ ، مِنْ حَيْثُ أَتَتْهَا الرِّيحُ كَفَأَتْهَا ، فَإِذَا اعْتَدَلَتْ تَكَفَّأُ بِالْبَلَاءِ ، وَالْفَاجِرُ كَالْأَرْزَةِ ، صَمَّاءَ مُعْتَدِلَةً حَتَّى يَقْصِمَهَا اللَّهُ إِذَا شَاءَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کی مثال پودے کی پہلی نکلی ہوئی ہری شاخ جیسی ہے کہ جب بھی ہوا چلتی ہے اسے جھکا دیتی ہے پھر وہ سیدھا ہو کر مصیبت برداشت کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور بدکار کی مثال صنوبر کے درخت جیسی ہے کہ سخت ہوتا ہے اور سیدھا کھڑا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے اسے اکھاڑ کر پھینک دیتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۶۴۴ کا خلاصہ
یہ حدیث مومن کی آزمائش کو ایک آسان مثال سے سمجھاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کی مثال پودے کی نرم ہری شاخ جیسی ہے۔ جب ہوا آتی ہے تو اسے جھکا دیتی ہے، پھر وہ سیدھی ہو جاتی ہے، اور مصیبت برداشت کرنے میں کامیاب رہتی ہے۔ دوسری طرف بدکار کی مثال صنوبر کے درخت جیسی ہے، جو سخت اور سیدھا کھڑا رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ جب چاہتا ہے اسے توڑ دیتا ہے۔ اس حدیث میں مومن کی نرمی کمزوری نہیں، بلکہ آزمائش کے ساتھ چلنے کی حالت کے طور پر بیان ہوئی ہے۔ مومن پر بلائیں آتی ہیں، وہ ہلتا ہے، مگر اللہ کے حکم سے سنبھلتا بھی ہے۔ اس روایت میں ہمیں اپنے حالات کو سمجھنے کا ایک سادہ اور گہرا سبق ملتا ہے، مگر بات کو حدیث کے بیان کردہ مثال ہی تک رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مومن کو نرم پودے سے تشبیہ دی گئی ہے جو ہوا سے جھکتا ہے۔
- مومن آزمائش میں سنبھلنے کی حالت رکھتا ہے۔
- بدکار کو سخت صنوبر سے تشبیہ دی گئی ہے جو آخر توڑ دیا جاتا ہے۔
- آزمائش کو مومن کی زندگی کا حصہ سمجھنا چاہیے۔
