صحیح بخاری حدیث ۵۶۴۶ - نبی صلى الله عليه وسلم کی بیماری اور صبر

نبی صلى الله عليه وسلم کی بیماری کی حدیث: تکلیف میں صبر کا سبق

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۶۴۶

حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشَدَّ عَلَيْهِ الْوَجَعُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .

عائشہ روایت:

میں نے (مرض وفات کی تکلیف) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اور کسی میں نہیں دیکھی۔

صحیح بخاری حدیث ۵۶۴۶ کا خلاصہ

یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی مرض وفات کی تکلیف کو بہت شدید پایا۔ اصل بات یہ ہے کہ بیماری اور تکلیف انسان کے لیے آسان نہیں ہوتیں، مگر اس حدیث میں نبی صلى الله عليه وسلم کے حال کا ذکر ہمیں صبر، برداشت اور ادب سکھاتا ہے۔ اس روایت میں کوئی لمبی تفصیل نہیں دی گئی، صرف یہ بتایا گیا ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم پر بیماری کی شدت بہت زیادہ تھی۔ اس لیے اس حدیث کو پڑھتے وقت ہمیں بیماری کی حدیث، نبی صلى الله عليه وسلم کی تکلیف، مرض وفات اور صبر جیسے الفاظ کے ساتھ اصل پیغام سمجھنا چاہیے۔ یہ حدیث دل کو یہ بات یاد دلاتی ہے کہ تکلیف آ جائے تو مومن کو گھبراہٹ کے بجائے صبر اور اللہ کی طرف رجوع کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم کو مرض وفات میں سخت تکلیف پہنچی، اس لیے تکلیف آنا ایمان کے خلاف نہیں۔
  • بیماری کے وقت صبر اور ادب کے ساتھ بات کرنا مومن کا اچھا انداز ہے۔
  • صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی صلى الله عليه وسلم کے حالات کو امانت کے ساتھ نقل کیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں