صحیح بخاری حدیث ۵۶۷ - آدھی رات عشاء اور خوشخبری
عشاء کی تاخیر اور انتظار کرنے والوں کے لیے خوشخبری
صحیح بخاری : ۵۶۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۶۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كُنْتُ أَنَا وَأَصْحَابِي الَّذِينَ قَدِمُوا مَعِي فِي السَّفِينَةِ نُزُولًا فِي بَقِيعِ بُطْحَانَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ ، فَكَانَ يَتَنَاوَبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ كُلَّ لَيْلَةٍ نَفَرٌ مِنْهُمْ ، فَوَافَقْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَصْحَابِي وَلَهُ بَعْضُ الشُّغْلِ فِي بَعْضِ أَمْرِهِ ، فَأَعْتَمَ بِالصَّلَاةِ حَتَّى ابْهَارَّ اللَّيْلُ ، ثُمَّ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِهِمْ ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ ، قَالَ لِمَنْ حَضَرَهُ عَلَى رِسْلِكُمْ : " أَبْشِرُوا إِنَّ مِنْ نِعْمَةِ اللَّهِ عَلَيْكُمْ أَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يُصَلِّي هَذِهِ السَّاعَةَ غَيْرُكُمْ ، أَوْ قَالَ مَا صَلَّى هَذِهِ السَّاعَةَ أَحَدٌ غَيْرُكُمْ " ، لَا يَدْرِي أَيَّ الْكَلِمَتَيْنِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو مُوسَى : فَرَجَعْنَا فَفَرِحْنَا بِمَا سَمِعْنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ابوموسیٰ اشعری روایت:
میں نے اپنے ان ساتھیوں کے ساتھ جو کشتی میں میرے ساتھ (حبشہ سے) آئے تھے ” بقیع بطحان “ میں قیام کیا۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف رکھتے تھے۔ ہم میں سے کوئی نہ کوئی عشاء کی نماز میں روزانہ باری مقرر کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا۔اتفاق سے میں اور میرے ایک ساتھی ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی کام میں مشغول تھے۔ (کسی ملی معاملہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ گفتگو فرما رہے تھے) جس کی وجہ سے نماز میں دیر ہو گئی اور تقریباً آدھی رات گزر گئی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور نماز پڑھائی۔نماز پوری کر چکے تو حاضرین سے فرمایا کہ اپنی اپنی جگہ پر وقار کے ساتھ بیٹھے رہو اور ایک خوشخبری سنو۔ تمہارے سوا دنیا میں کوئی بھی ایسا آدمی نہیں جو اس وقت نماز پڑھتا ہو، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ تمہارے سوا اس وقت کسی (امت) نے بھی نماز نہیں پڑھی تھی۔ یہ یقین نہیں کہ آپ نے ان دو جملوں میں سے کون سا جملہ کہا تھا۔ پھر راوی نے کہا کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ پس ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سن کر بہت ہی خوش ہو کر لوٹے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۶۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع عشاء کی نماز میں تاخیر اور خوشخبری ہے۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مدینہ کے قریب ٹھہرے تھے اور باری باری عشاء کے وقت نبی صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔ ایک رات نبی صلى الله عليه وسلم کسی کام میں مشغول تھے، اس لیے نماز میں دیر ہوئی، یہاں تک کہ رات کا بڑا حصہ گزر گیا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم تشریف لائے، نماز پڑھائی، اور حاضر لوگوں سے فرمایا کہ اپنی جگہ ٹھہرے رہو اور خوشخبری سنو۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی نعمت ہے کہ اس وقت تمہارے سوا کوئی نماز نہیں پڑھ رہا، یا اسی معنی کا جملہ فرمایا۔ اس سے عشاء کے انتظار کی حدیث کا مفہوم صاف سامنے آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز کے انتظار میں حاضر رہتے تھے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے عشاء کے انتظار کرنے والوں کو خوشخبری دی۔
- روایت میں الفاظ کے بارے میں راوی کی احتیاط بھی بیان ہوئی ہے۔
