صحیح بخاری حدیث ۵۶۷۲ - موت کی دعا اور دنیا داری

موت کی دعا اور دنیا داری کی حدیث: مال، خرچ اور آخرت کی فکر

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۶۷۲

حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : " دَخَلْنَا عَلَى خَبَّابٍ نَعُودُهُ وَقَدِ اكْتَوَى سَبْعَ كَيَّاتٍ ، فَقَالَ : إِنَّ أَصْحَابَنَا الَّذِينَ سَلَفُوا مَضَوْا وَلَمْ تَنْقُصْهُمُ الدُّنْيَا ، وَإِنَّا أَصَبْنَا مَا لَا نَجِدُ لَهُ مَوْضِعًا إِلَّا التُّرَابَ ، وَلَوْلَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ ، لَدَعَوْتُ بِهِ ، ثُمَّ أَتَيْنَاهُ مَرَّةً أُخْرَى وَهُوَ يَبْنِي حَائِطًا لَهُ ، فَقَالَ : إِنَّ الْمُسْلِمَ لَيُؤْجَرُ فِي كُلِّ شَيْءٍ يُنْفِقُهُ إِلَّا فِي شَيْءٍ يَجْعَلُهُ فِي هَذَا التُّرَابِ " .

قیس بن ابی حازم روایت:

ہم خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کے یہاں ان کی عیادت کو گئے انہوں نے اپنے پیٹ میں سات داغ لگوائے تھے پھر انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں وفات پا چکے وہ یہاں سے اس حال میں رخصت ہوئے کہ دنیا ان کا اجر و ثواب کچھ نہ گھٹا سکی اور ان کے عمل میں کوئی کمی نہیں ہوئی اور ہم نے (مال و دولت) اتنی پائی کہ جس کے خرچ کرنے کے لیے ہم نے مٹی کے سوا اور کوئی محل نہیں پایا (لگے عمارتیں بنوانے) اور اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں اس کی دعا کرتا پھر ہم ان کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوئے تو وہ اپنی دیوار بنا رہے تھے انہوں نے کہا مسلمان کو ہر اس چیز پر ثواب ملتا ہے جسے وہ خرچ کرتا ہے مگر اس (کم بخت) عمارت میں خرچ کرنے کا ثواب نہیں ملتا۔

صحیح بخاری حدیث ۵۶۷۲ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ مسلمان کو دنیا کے مال اور اپنی حالت کے بارے میں بہت سنبھل کر سوچنا چاہیے۔ خباب بن ارت رضی اللہ عنہ بیمار تھے، ان کے پیٹ میں سات داغ لگائے گئے تھے۔ اس حالت میں انہوں نے اپنے ان ساتھیوں کو یاد کیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں وفات پا گئے تھے۔ ان کے بارے میں انہوں نے کہا کہ دنیا نے ان کے اجر میں کمی نہیں کی۔ پھر انہوں نے اپنی حالت کا ذکر کیا کہ ہمیں اتنا مال ملا کہ اسے خرچ کرنے کے لیے مٹی، یعنی عمارت بنانے، کے سوا جگہ نہ ملی۔ اسی بات کے ساتھ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کی دعا کرنے سے منع فرمایا تھا، ورنہ وہ موت کی دعا کرتے۔ حدیث کے آخر میں خباب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مسلمان کو ہر خرچ پر اجر ملتا ہے، مگر اس چیز پر نہیں جو وہ اس مٹی میں لگاتا ہے۔ یہاں عمارت پر خرچ کی حدیث کا مطلب یہی ہے کہ بے فائدہ تعمیرات اور دنیا میں حد سے زیادہ لگاؤ انسان کو آخرت کی فکر سے غافل کر سکتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مصیبت یا بیماری میں موت کی دعا نہیں کرنی چاہیے۔
  • دنیا کا مال ملے تو انسان کو اپنے انجام اور آخرت کی فکر رکھنی چاہیے۔
  • ہر خرچ اجر کا سبب ہو سکتا ہے، مگر حدیث میں عمارت پر خرچ کو اس سے الگ بیان کیا گیا ہے۔
  • صحابہ کرام دنیا کے مال کو آخرت کے اجر کے مقابلے میں بہت احتیاط سے دیکھتے تھے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں