صحیح بخاری حدیث ۵۶۷۴ - آخری دعا اور اللہ سے مغفرت
آخری دعا کی حدیث: اللہ سے مغفرت، رحمت اور رفیق اعلیٰ کی دعا
صحیح بخاری : ۵۶۷۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۶۷۴
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَيَّ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الأَعْلَى " .
عائشہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرا سہارا لیے ہوئے تھے (مرض الموت میں) اور فرما رہے تھے «اللهم اغفر لي وارحمني وألحقني بالرفيق الأعلى» ”اے اللہ! میری مغفرت فرما مجھ پر رحم کر اور مجھ کو اچھے رفیقوں (فرشتوں اور پیغمبروں) کے ساتھ ملا دے۔“
صحیح بخاری حدیث ۵۶۷۴ کا خلاصہ
یہ حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم مرضِ وفات میں ان کا سہارا لیے ہوئے تھے اور یہ دعا فرما رہے تھے: اے اللہ! میری مغفرت فرما، مجھ پر رحم فرما، اور مجھے رفیق اعلیٰ کے ساتھ ملا دے۔ اس حدیث کا اصل موضوع دعا، مغفرت اور اللہ کی رحمت ہے۔ عام فہم انداز میں اس کا مطلب یہ ہے کہ بندہ ہر حال میں اللہ ہی سے معافی اور رحم مانگتا ہے۔ یہاں نبی صلى الله عليه وسلم کی زبان مبارک سے ایسی دعا نقل ہوئی ہے جس میں تین باتیں جمع ہیں: مغفرت، رحمت، اور اچھے رفیقوں کے ساتھ ملنے کی درخواست۔ اسی لیے لوگ اسے آخری دعا کی حدیث، اللہم اغفر لی وارحمنی کی حدیث، اور رفیق اعلیٰ کی دعا کے نام سے تلاش کرتے ہیں۔ اس روایت میں کوئی لمبی نصیحت نہیں، مگر الفاظ بہت جامع ہیں۔ انسان کو یاد رہتا ہے کہ اللہ سے مانگنے میں سب سے بڑی بات اس کی بخشش اور رحمت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دعا میں اللہ سے مغفرت مانگنا ایک اہم اور صاف پیغام ہے۔
- اللہ کی رحمت مانگنا بندے کی عاجزی کو ظاہر کرتا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اس دعا میں رفیق اعلیٰ کے ساتھ ملنے کی درخواست فرمائی۔
- مشکل وقت میں بھی بندے کی توجہ اللہ کی طرف رہنی چاہیے۔
