صحیح بخاری حدیث ۴۴۳۶ - رفیق اعلیٰ کی دعا
رفیق اعلیٰ کی دعا: نبی صلى الله عليه وسلم کے آخری الفاظ کا پیغام
صحیح بخاری : ۴۴۳۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۳۶
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرَضَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ جَعَلَ ، يَقُولُ : " فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض الموت میں باربار فرماتے تھے۔ ”( «اللهم») «الرفيق الأعلى» اے اللہ! مجھے میرے رفقاء (انبیاء اور صدیقین) میں پہنچا دے (جو اعلیٰ علیین میں رہتے ہیں)۔“
صحیح بخاری حدیث ۴۴۳۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع رفیق اعلیٰ اور آخرت کی رغبت ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اپنے مرض وفات میں بار بار یہ الفاظ فرماتے تھے: رفیق اعلیٰ میں۔ ترجمے کے مطابق اس سے مراد بلند رفیق، یعنی انبیاء اور صدیقین کی جماعت ہے۔ روایت بہت مختصر ہے، مگر نبی صلى الله عليه وسلم کی آخری خواہش اور دعا کو صاف انداز میں بیان کرتی ہے۔ اس میں دنیا کی کسی چیز کا ذکر نہیں، بلکہ اللہ کے قرب اور بلند رفاقت کی طلب نمایاں ہے۔ اسی لیے رفیق اعلیٰ کی حدیث مسلمانوں کے دلوں میں خاص جگہ رکھتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے آخری مرض میں رفیق اعلیٰ کے الفاظ فرمائے۔
- حدیث میں آخرت کی طرف رغبت کا صاف اشارہ ہے۔
- مشکل وقت میں زبان پر دعا اور اللہ کی طرف توجہ ہونی چاہیے۔
- مختصر الفاظ بھی بڑے معنی رکھتے ہیں جب وہ نبی صلى الله عليه وسلم سے ثابت ہوں۔
