صحیح بخاری حدیث ۴۴۳۵ - دنیا اور آخرت کا اختیار

دنیا اور آخرت کا اختیار: مرض وفات کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۳۵

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَسْمَعُ أَنَّهُ لَا يَمُوتُ نَبِيٌّ حَتَّى يُخَيَّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَأَخَذَتْهُ بُحَّةٌ ، يَقُولُ : مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ سورة النساء آية 69 الْآيَةَ ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ " .

عائشہ روایت:

میں سنتی آئی تھی کہ ہر نبی کو وفات سے پہلے دنیا اور آخرت کے رہنے میں اختیار دیا جاتا ہے، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی سنا، آپ اپنے مرض الموت میں فرما رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز بھاری ہو چکی تھی۔ آپ آیت «مع الذين أنعم الله عليهم‏» کی تلاوت فرما رہے تھے (یعنی ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام کیا ہے) مجھے یقین ہو گیا کہ آپ کو بھی اختیار دے دیا گیا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۴۳۵ کا خلاصہ

اس حدیث کا بنیادی موضوع آخرت کا انتخاب ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ سنتی آئی تھیں کہ ہر نبی کو وفات سے پہلے دنیا میں رہنے اور آخرت کی طرف جانے کے درمیان اختیار دیا جاتا ہے۔ پھر انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو اپنے مرض وفات میں ایک آیت پڑھتے ہوئے سنا: ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام فرمایا۔ اس وقت آپ صلى الله عليه وسلم کی آواز بھاری ہو چکی تھی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سمجھ لیا کہ آپ صلى الله عليه وسلم کو بھی اختیار دیا گیا ہے۔ اس روایت میں نبی صلى الله عليه وسلم کے آخری لمحات، قرآن کی تلاوت اور آخرت کی طرف رغبت کا گہرا مگر سادہ بیان ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ہر نبی کے بارے میں عائشہ رضی اللہ عنہا نے اختیار والی بات نقل کی۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے آخری مرض میں قرآن کی آیت تلاوت فرمائی۔
  • عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلى الله عليه وسلم کے الفاظ سے آخرت کے انتخاب کا اشارہ سمجھا۔
  • موت کے وقت بھی قرآن سے تعلق ایک روشن عمل کے طور پر سامنے آتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں