صحیح بخاری حدیث ۴۴۳۴ - اہل بیت کی محبت
اہل بیت کی محبت: فاطمہ رضی اللہ عنہا کی سرگوشی والی حدیث
صحیح بخاری : ۴۴۳۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۳۴
حَدَّثَنَا يَسَرَةُ بْنُ صَفْوَانَ بْنِ جَمِيلٍ اللَّخْمِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ فَسَارَّهَا بِشَيْءٍ فَبَكَتْ ، ثُمَّ دَعَاهَا فَسَارَّهَا بِشَيْءٍ فَضَحِكَتْ ، فَسَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَتْ : " سَارَّنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُقْبَضُ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَبَكَيْتُ ، ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِهِ يَتْبَعُهُ فَضَحِكْتُ " .
عائشہ روایت:
مرض الموت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور آہستہ سے کوئی بات ان سے کہی جس پر وہ رونے لگیں۔ پھر دوبارہ آہستہ سے کوئی بات کہی جس پر وہ ہنسنے لگیں۔پھر ہم نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ آپ کی وفات اسی مرض میں ہو جائے گی، میں یہ سن کر رونے لگی۔ دوسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے جب سرگوشی کی تو یہ فرمایا کہ آپ کے گھر کے آدمیوں میں سب سے پہلے میں آپ سے جا ملوں گی تو میں ہنسی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۴۳۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع اہل بیت کی محبت اور نبی صلى الله عليه وسلم کے آخری ایام ہیں۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اپنے مرض وفات میں بلایا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے آہستہ سے ایک بات کہی تو وہ رو پڑیں۔ پھر دوبارہ آہستہ سے بات فرمائی تو وہ ہنس دیں۔ بعد میں فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ پہلی خبر آپ صلى الله عليه وسلم کی وفات سے متعلق تھی، اس لیے غم ہوا۔ دوسری خبر یہ تھی کہ گھر والوں میں سب سے پہلے وہ آپ صلى الله عليه وسلم سے ملیں گی، اس لیے مسکرائیں۔ یہ روایت اہل بیت کے باہمی تعلق اور جدائی کے دکھ کو سادہ انداز میں دکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو خاص طور پر قریب بلا کر بات فرمائی۔
- وفات کی خبر سن کر فاطمہ رضی اللہ عنہا کا رونا فطری محبت کی علامت تھا۔
- دوسری خبر نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تسلی دی۔
- روایت میں بیان شدہ باتوں سے باہر کوئی اضافی دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔
