صحیح بخاری حدیث ۴۴۳۳ - فاطمہ رضی اللہ عنہا کی سرگوشی
فاطمہ رضی اللہ عنہا کی سرگوشی: رونا اور پھر مسکرانا
صحیح بخاری : ۴۴۳۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۳۳
حَدَّثَنَا يَسَرَةُ بْنُ صَفْوَانَ بْنِ جَمِيلٍ اللَّخْمِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ فَسَارَّهَا بِشَيْءٍ فَبَكَتْ ، ثُمَّ دَعَاهَا فَسَارَّهَا بِشَيْءٍ فَضَحِكَتْ ، فَسَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَتْ : " سَارَّنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُقْبَضُ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَبَكَيْتُ ، ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِهِ يَتْبَعُهُ فَضَحِكْتُ " .
عائشہ روایت:
مرض الموت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور آہستہ سے کوئی بات ان سے کہی جس پر وہ رونے لگیں۔ پھر دوبارہ آہستہ سے کوئی بات کہی جس پر وہ ہنسنے لگیں۔پھر ہم نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ آپ کی وفات اسی مرض میں ہو جائے گی، میں یہ سن کر رونے لگی۔ دوسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے جب سرگوشی کی تو یہ فرمایا کہ آپ کے گھر کے آدمیوں میں سب سے پہلے میں آپ سے جا ملوں گی تو میں ہنسی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۴۳۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع اہل بیت اور مرض وفات کا واقعہ ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اپنے آخری مرض میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور آہستہ سے ایک بات فرمائی، تو وہ رونے لگیں۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے دوبارہ سرگوشی فرمائی، تو وہ ہنسنے لگیں۔ بعد میں پوچھا گیا تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ پہلے آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنی اسی بیماری میں وفات کی خبر دی، اس لیے وہ روئیں۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ اہل خانہ میں سب سے پہلے وہ آپ صلى الله عليه وسلم سے جا ملیں گی، اس لیے وہ خوش ہوئیں۔ یہ حدیث محبت، جدائی اور اہل بیت کے خاص تعلق کو بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نبی صلى الله عليه وسلم سے بہت محبت تھی۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنی وفات کی خبر فاطمہ رضی اللہ عنہا کو سرگوشی میں دی۔
- اہل بیت کے ساتھ نبی صلى الله عليه وسلم کا تعلق بہت نرم اور محبت بھرا تھا۔
- ہر بات فوراً ظاہر نہیں کی جاتی، بعض باتیں مناسب وقت پر بتائی جاتی ہیں۔
