صحیح بخاری حدیث ۵۶۸۳ - شہد، پچھنا اور علاج
علاج کی حدیث: شہد پینا اور پچھنا لگوانا
صحیح بخاری : ۵۶۸۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۶۸۳
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ أَوْ يَكُونُ فِي شَيْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ خَيْرٌ : فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ ، أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ ، أَوْ لَذْعَةٍ بِنَارٍ ، تُوَافِقُ الدَّاءَ وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَكْتَوِيَ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہاری دواؤں میں کسی میں بھلائی ہے یا یہ کہا کہ تمہاری (ان) دواؤں میں بھلائی ہے۔ تو پچھنا لگوانے یا شہد پینے اور آگ سے داغنے میں ہے اگر وہ مرض کے مطابق ہو اور میں آگ سے داغنے کو پسند نہیں کرتا ہوں۔
صحیح بخاری حدیث ۵۶۸۳ کا خلاصہ
یہ حدیث علاج کی حدیث، شہد کا علاج اور پچھنا لگوانے کی حدیث جیسے الفاظ سے تلاش کی جاتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہاری دواؤں میں بھلائی ہے تو پچھنا لگوانے، شہد پینے، یا آگ سے داغنے میں ہے، بشرطیکہ وہ مرض کے مطابق ہو۔ اسی حدیث میں آپ صلى الله عليه وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ میں آگ سے داغنے کو پسند نہیں کرتا۔ اس لیے اس روایت کو سمجھتے وقت توازن ضروری ہے۔ حدیث علاج کے چند طریقوں کا ذکر کرتی ہے، مگر ہر مرض پر ایک ہی چیز لاگو کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ متن میں “مرض کے مطابق” کا لفظ خاص طور پر اہم ہے۔ اس سے علاج میں سبب، احتیاط اور مناسبت کا پہلو سامنے آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- علاج میں مرض کے مطابق طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔
- شہد پینے اور پچھنا لگوانے کا ذکر مفید علاج کے طور پر آیا ہے۔
- آگ سے داغنے کو حدیث میں پسندیدہ طریقہ نہیں بتایا گیا۔
