صحیح بخاری حدیث ۶۶۹۱ - شہد، قسم اور حلال چیز
شہد اور قسم کی حدیث: حلال چیز کو اپنے اوپر روکنا
صحیح بخاری : ۶۶۹۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۹۱
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : زَعَمَ عَطَاءٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَزْعُمُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ، وَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا ، فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتَنَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلْتَقُلْ : إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ ، فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا : فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " لَا ، بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ، وَلَنْ أَعُودَ لَهُ " ، فَنَزَلَتْ : يَأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ سورة التحريم آية 1 إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ سورة التحريم آية 4 ، لِعَائِشَةَ ، وَحَفْصَةَ ، وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا ، لِقَوْلِهِ : بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا " ، وقَالَ لِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ هِشَامٍ : وَلَنْ أَعُودَ لَهُ ، وَقَدْ حَلَفْتُ فَلَا تُخْبِرِي بِذَلِكِ أَحَدًا .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (ام المؤمنین) زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے یہاں رکتے تھے اور شہد پیتے تھے۔ پھر میں نے اور (ام المؤمنین) حفصہ (رضی اللہ عنہا) نے عہد کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے مغافیر کی بو آتی ہے، آپ نے مغافیر تو نہیں کھائی ہے؟ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ایک کے یہاں تشریف لائے تو انہوں نے یہی بات آپ سے پوچھی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ میں نے شہد پیا ہے زینب بنت جحش کے یہاں اور اب کبھی نہیں پیوں گا۔ (کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین ہو گیا کہ واقعی اس میں مغافیر کی بو آتی ہے) اس پر یہ آیت نازل ہوئی «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل الله لك» ”اے نبی! آپ ایسی چیز کیوں حرام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کی ہے۔“«إن تتوبا إلى الله» میں عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرف اشارہ ہے اور «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا» سے اشارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی طرف ہے کہ ”نہیں“ میں نے شہد پیا ہے۔“ اور مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے ہشام سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اب کبھی میں شہد نہیں پیوں گا میں نے قسم کھا لی ہے تم اس کی کسی کو خبر نہ کرنا (پھر آپ نے اس قسم کو توڑ دیا)۔
صحیح بخاری حدیث ۶۶۹۱ کا خلاصہ
یہ حدیث شہد، قسم اور سورہ تحریم کے واقعے سے متعلق ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ہاں ٹھہرتے اور شہد پیتے تھے۔ پھر عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما نے آپس میں طے کیا کہ جس کے پاس نبی صلى الله عليه وسلم آئیں، وہ مغافیر کی بو کا ذکر کرے۔ جب بات کہی گئی تو نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں نے زینب کے ہاں شہد پیا ہے، اور اب نہیں پیوں گا۔ روایت میں آیت کا ذکر بھی ہے: اے نبی! آپ وہ چیز کیوں حرام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کی ہے۔ اس حدیث کا اصل موضوع گھر کے اندر کا ایک واقعہ، شہد، قسم اور حلال چیز کو اپنے اوپر روکنے کی بات ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حلال چیز کو اپنے اوپر روکنے کے بارے میں حدیث میں واضح واقعہ آیا ہے۔
- گھریلو باتوں میں احتیاط اور سچائی کی اہمیت سامنے آتی ہے۔
- روایت میں نبی صلى الله عليه وسلم کے شہد پینے اور پھر نہ پینے کے ارادے کا ذکر ہے۔
