صحیح بخاری حدیث ۶۶۹۲ - نذر تقدیر نہیں بدلتی
نذر کی حدیث: نذر تقدیر کو آگے پیچھے نہیں کرتی
صحیح بخاری : ۶۶۹۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۹۲
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : أَوَلَمْ يُنْهَوْا عَنِ النَّذْرِ ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ النَّذْرَ لَا يُقَدِّمُ شَيْئًا وَلَا يُؤَخِّرُ ، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِالنَّذْرِ مِنَ الْبَخِيلِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
´ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن الحارث نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا،` انہوں نے کہا، کیا لوگوں کو نذر سے منع نہیں کیا گیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نذر کسی چیز کو نہ آگے کر سکتی ہے نہ پیچھے، البتہ اس کے ذریعہ بخیل کا مال نکالا جا سکتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۶۹۲ کا خلاصہ
یہ نذر کی حدیث بہت واضح انداز میں بتاتی ہے کہ نذر تقدیر کو نہیں بدلتی۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ کیا لوگوں کو نذر سے منع نہیں کیا گیا؟ پھر نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا فرمان نقل کیا کہ نذر کسی چیز کو نہ آگے کرتی ہے نہ پیچھے، البتہ اس کے ذریعے بخیل کا مال نکالا جاتا ہے۔ اس روایت میں نذر ماننے کے بارے میں ایک اہم تنبیہ ہے۔ انسان کبھی سوچتا ہے کہ نذر ماننے سے کام لازمی ہو جائے گا، مگر حدیث اس خیال کو درست نہیں کہتی۔ نذر اصل میں تقدیر کو بدلنے کا ذریعہ نہیں۔ ہاں، جو شخص مال خرچ کرنے میں بخل کرتا ہے، نذر کے سبب اس سے مال نکل جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نذر کسی چیز کو آگے یا پیچھے نہیں کرتی۔
- نذر کو تقدیر بدلنے کا ذریعہ سمجھنا درست نہیں۔
- حدیث کے مطابق نذر سے بخیل کا مال نکل سکتا ہے۔
