صحیح بخاری حدیث ۶۶۹۳ - نذر کچھ واپس نہیں کرتی

منت اور نذر کی حدیث: نذر کسی چیز کو واپس نہیں کرتی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۹۳

حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّذْرِ ، وَقَالَ : إِنَّهُ لَا يَرُدُّ شَيْئًا ، وَلَكِنَّهُ يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر سے منع فرمایا تھا اور فرمایا تھا کہ وہ کسی چیز کو واپس نہیں کر سکتی، البتہ اس کے ذریعہ بخیل کا مال نکالا جا سکتا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۶۹۳ کا خلاصہ

یہ حدیث منت اور نذر کے بارے میں صاف بات کرتی ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے نذر سے منع فرمایا اور فرمایا کہ نذر کسی چیز کو واپس نہیں کرتی، البتہ اس کے ذریعے بخیل کا مال نکالا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نذر کو کسی آنے والی مصیبت کو روکنے یا کسی چیز کو پلٹانے کا لازمی ذریعہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ حدیث کی زبان مختصر ہے مگر پیغام بہت واضح ہے۔ نذر ماننے سے تقدیر پر اختیار حاصل نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شخص خرچ کرنے میں تنگ دل ہو تو نذر اسے خرچ پر آمادہ کر دیتی ہے۔ اس لیے نذر کے بارے میں جذبات کے بجائے نبوی رہنمائی کو سامنے رکھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم نے نذر سے منع فرمایا۔
  • نذر کسی چیز کو واپس نہیں کرتی۔
  • نذر کا ایک اثر یہ بیان ہوا کہ بخیل سے مال نکلتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں