صحیح بخاری حدیث ۶۶۹۴ - نذر اور مقدر

نذر اور تقدیر کی حدیث: مقدر سے باہر کچھ نہیں

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۹۴

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَأْتِي ابْنَ آدَمَ النَّذْرُ بِشَيْءٍ لَمْ يَكُنْ قُدِّرَ لَهُ ، وَلَكِنْ يُلْقِيهِ النَّذْرُ إِلَى الْقَدَرِ قَدْ قُدِّرَ لَهُ ، فَيَسْتَخْرِجُ اللَّهُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ ، فَيُؤْتِي عَلَيْهِ مَا لَمْ يَكُنْ يُؤْتِي عَلَيْهِ مِنْ قَبْلُ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نذر انسان کو کوئی ایسی چیز نہیں دیتی جو اس کے مقدر میں نہ ہو، البتہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ بخیل سے اس کا مال نکلواتا ہے اور اس طرح وہ چیزیں صدقہ کر دیتا ہے جس کی اس سے پہلے اس کی امید نہیں کی جا سکتی تھی۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۶۹۴ کا خلاصہ

یہ حدیث نذر اور مقدر کے تعلق کو واضح کرتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ نذر ابن آدم کو کوئی ایسی چیز نہیں دیتی جو اس کے لیے مقدر نہ ہو۔ نذر اسے اسی تقدیر کی طرف لے جاتی ہے جو پہلے ہی مقدر ہو چکی ہوتی ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ اس کے ذریعے بخیل سے مال نکلواتا ہے، چنانچہ وہ ایسی چیز دے دیتا ہے جو پہلے دینے والا نہ تھا۔ اس حدیث میں نذر کے بارے میں ایک عام غلط فہمی ختم ہوتی ہے۔ نذر کوئی ایسا ذریعہ نہیں کہ انسان تقدیر سے باہر کوئی چیز لے آئے۔ ہاں، یہ بخیل شخص سے مال نکلوانے کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لیے نذر کو اللہ پر سودا کرنے کے انداز میں نہیں سمجھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نذر مقدر سے باہر کوئی چیز نہیں لاتی۔
  • انسان کو تقدیر کے معاملے میں اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔
  • حدیث میں بخیل سے مال نکلنے کا پہلو بیان ہوا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں