صحیح بخاری حدیث ۵۷۱۵ - قسط ہندی میں شفا
قسط ہندی کی حدیث: بچوں کو تکلیف دینے کے بجائے عود ہندی
صحیح بخاری : ۵۷۱۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۷۱۵
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيَّةَ أَسَدَ خُزَيْمَةَ وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ اللَّاتِي بَايَعْنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ أُخْتُ عُكَاشَةَ أَخْبَرَتْهُ : " أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا قَدْ أَعْلَقَتْ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَى مَا تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْعِلَاقِ ، عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا : ذَاتُ الْجَنْبِ " ، يُرِيدُ الْكُسْتَ وَهُوَ الْعُودُ الْهِنْدِيُّ ، وَقَالَ يُونُسُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ عَلَّقَتْ عَلَيْهِ .
ام قیس بنت محصن اسدیہ روایت:
´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ` ام قیس بنت محصن اسدیہ نے انہیں خبر دی، ان کا تعلق قبیلہ خزیمہ کی شاخ بن اسد سے تھا وہ ان ابتدائی مہاجرات میں سے تھیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔ آپ عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں (انہوں نے بیان کیا کہ) وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک بیٹے کو لے کر آئیں۔انہوں نے اپنے لڑکے کے «عذرة» کا علاج تالو دبا کر کیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، آخر تم عورتیں کیوں اپنی اولاد کو یوں تالو دبا کر تکلیف پہنچاتی ہو۔ تمہیں چاہیئے کہ اس مرض میں عود ہندی کا استعمال کیا کرو کیونکہ اس میں سات بیماریوں سے شفاء ہے۔ ان میں ایک ذات الجنب کی بیماری بھی ہے۔ (عود ہندی سے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد «كست» تھی یہی عود ہندی ہے۔ اور یونس اور اسحاق بن راشد نے بیان کیا اور ان سے زہری نے اس روایت میں بجائے «اعلقت عليه.» کے «علقت عليه.» نقل کیا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۷۱۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع قسط ہندی یا عود ہندی سے علاج ہے۔ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا اپنے بچے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائیں۔ بچے کے عذرہ کے علاج کے لیے اس کا تالو دبایا گیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم عورتیں اپنی اولاد کو اس طرح تالو دبا کر کیوں تکلیف دیتی ہو؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عود ہندی استعمال کرنے کی ہدایت فرمائی اور بتایا کہ اس میں سات بیماریوں سے شفا ہے، جن میں ذات الجنب بھی ہے۔ روایت میں وضاحت ہے کہ عود ہندی سے مراد کست ہے۔ اس حدیث میں قسط ہندی حدیث، عود ہندی علاج، بچوں کی بیماری، تالو دبانا، اور ذات الجنب جیسے الفاظ فطری طور پر آتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بچوں کو تالو دبا کر تکلیف پہنچانے سے منع کیا گیا۔
- عود ہندی یا کست کے استعمال کی ہدایت دی گئی۔
- حدیث میں سات بیماریوں سے شفا کا ذکر ہے۔
- ذات الجنب کو ان بیماریوں میں خاص طور پر ذکر کیا گیا۔
