صحیح بخاری حدیث ۵۷۶۹ - سات عجوہ کھجوروں کی فضیلت
سات عجوہ کھجور کی حدیث: صبح کا مسنون عمل
صحیح بخاری : ۵۷۶۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۷۶۹
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ ، سَمِعْتُ سَعْدًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ تَصَبَّحَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ عَجْوَةً لَمْ يَضُرَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ سُمٌّ وَلَا سِحْرٌ " .
ہاشم بن ہاشم روایت:
میں نے عامر بن سعد سے سنا، انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے صبح کے وقت سات عجوہ کھجوریں کھا لیں اس دن اسے نہ زہر نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ جادو۔
صحیح بخاری حدیث ۵۷۶۹ کا خلاصہ
یہ سات عجوہ کھجور والی حدیث حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے نقل ہوئی ہے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ جو شخص صبح کے وقت سات عجوہ کھجوریں کھا لے، اس دن اسے نہ زہر نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ جادو۔ حدیث میں وقت بھی واضح ہے، یعنی صبح کا وقت، اور مقدار بھی واضح ہے، یعنی سات عجوہ کھجوریں۔ اس سے عجوہ کھجور کی خاص فضیلت معلوم ہوتی ہے۔ اس حدیث کو پڑھتے وقت بات کو اسی حد میں رکھنا چاہیے کہ یہ خاص طور پر اس دن کے لیے بیان ہوئی ہے۔ یہ روایت مسلمانوں کو حلال غذا، نبوی رہنمائی اور اللہ کے حکم سے ملنے والی حفاظت کی یاد دلاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صبح کے وقت سات عجوہ کھجور کھانے کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
- اس عمل کے ساتھ اسی دن زہر اور جادو سے حفاظت بیان ہوئی ہے۔
- نبوی رہنمائی میں غذا اور فائدہ دونوں کا تعلق ملتا ہے۔
