صحیح بخاری حدیث ۵۷۷۰ - چھوت اور بدشگونی کی نفی

چھوت کی حدیث: پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی؟

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۷۷۰

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ ، وَلَا هَامَةَ " ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ فَيُخَالِطُهَا الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ ، فَيُجْرِبُهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت لگ جانا، صفر کی نحوست اور الو کی نحوست کوئی چیز نہیں۔ ایک دیہاتی نے کہا: یا رسول اللہ! پھر اس اونٹ کے متعلق کیا کہا جائے گا جو ریگستان میں ہرن کی طرح صاف چمکدار ہوتا ہے لیکن خارش والا اونٹ اسے مل جاتا ہے اور اسے بھی خارش لگا دیتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی؟

صحیح بخاری حدیث ۵۷۷۰ کا خلاصہ

یہ چھوت کی حدیث ایک اہم بات سمجھاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت، صفر کی نحوست اور الو کی نحوست کوئی چیز نہیں۔ ایک دیہاتی نے اونٹوں کی مثال دی کہ ایک صاف ستھرا اونٹ ہوتا ہے، پھر خارش والا اونٹ اس کے پاس آتا ہے تو اسے بھی خارش ہو جاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں پوچھا کہ پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی؟ اس جواب سے توجہ اصل سبب کی طرف جاتی ہے۔ حدیث کا مقصد جاہلی بدگمانی اور خود بخود اثر کرنے والے عقیدے کی نفی ہے۔ متن میں یہ بھی دکھایا گیا کہ سوال کیا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختصر مگر مضبوط جواب دیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نحوست کے جاہلی خیالات کو درست نہیں سمجھنا چاہیے۔
  • ہر اثر کو خود مختار سبب نہ سمجھا جائے۔
  • سوال کا جواب کبھی مختصر مثال سے بھی دیا جا سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں