صحیح بخاری حدیث ۵۷۷۶ - نیک فال اور اچھی بات

نیک فال کی حدیث: اچھی بات منہ سے نکالنا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۷۷۶

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ " ، قَالُوا : وَمَا الْفَأْلُ ، قَالَ : " كَلِمَةٌ طَيِّبَةٌ " .

انس بن مالک روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت لگنا کوئی چیز نہیں ہے اور بدشگونی نہیں ہے البتہ نیک فال مجھے پسند ہے۔ صحابی نے عرض کیا نیک فال کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھی بات منہ سے نکالنا یا کسی سے سن لینا۔

صحیح بخاری حدیث ۵۷۷۶ کا خلاصہ

یہ نیک فال کی حدیث حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت لگنا کوئی چیز نہیں اور بدشگونی نہیں ہے، البتہ نیک فال مجھے پسند ہے۔ صحابہ نے پوچھا کہ نیک فال کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھی بات منہ سے نکالنا یا کسی سے اچھی بات سن لینا۔ اس حدیث میں بدشگونی اور نیک فال کا فرق صاف ہو جاتا ہے۔ بدشگونی بے بنیاد خوف اور مایوسی کی طرف لے جاتی ہے، جبکہ نیک فال اچھی بات، اچھے الفاظ اور بہتر امید سے تعلق رکھتی ہے۔ حدیث کا اصل سبق یہ ہے کہ مسلمان زبان سے اچھی بات نکالے اور اچھی بات سن کر مثبت رخ اختیار کرے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بدشگونی سے بچنا چاہیے۔
  • نیک فال اچھی بات کہنے یا سننے سے متعلق ہے۔
  • زبان سے اچھی بات نکلنا پسندیدہ عمل ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں