صحیح بخاری حدیث ۵۷۷۵ - لا عدوی اور اونٹ کی مثال

لا عدوی اور خارش والا اونٹ: حدیث کا آسان مطلب

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۷۷۵

وَعَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا عَدْوَى " ، فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ : أَرَأَيْتَ الْإِبِلَ تَكُونُ فِي الرِّمَالِ أَمْثَالَ الظِّبَاءِ ، فَيَأْتِيهَا الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَتَجْرَبُ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت کوئی چیز نہیں ہے۔ اس پر ایک دیہاتی نے کھڑے ہو کر پوچھا آپ نے دیکھا ہو گا کہ ایک اونٹ ریگستان میں ہرن جیسا صاف رہتا ہے لیکن جب وہی ایک خارش والے اونٹ کے پاس آ جاتا ہے تو اسے بھی خارش ہو جاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی۔

صحیح بخاری حدیث ۵۷۷۵ کا خلاصہ

یہ حدیث بھی لا عدوی کے موضوع پر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت کوئی چیز نہیں۔ اس پر ایک دیہاتی نے اونٹ کی مثال دی کہ ایک اونٹ ریگستان میں ہرن جیسا صاف ہوتا ہے، پھر خارش والے اونٹ کے پاس آتا ہے تو اسے بھی خارش ہو جاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی؟ اس جواب میں ایک بڑی بات ہے: انسان صرف ظاہری تعلق دیکھ کر ہر چیز کو خود اثر کرنے والی نہ سمجھے۔ حدیث کا اصل زور جاہلی تصور کی نفی پر ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ بیماری، سبب اور اثر کے بارے میں بات کرتے ہوئے نبوی رہنمائی کے دائرے میں رہنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • چھوت کے جاہلی تصور کی نفی حدیث میں آئی ہے۔
  • ظاہری سبب کو خود مختار اثر والا نہ سمجھا جائے۔
  • سوال کا جواب کبھی سوچنے پر مجبور کرنے والے سوال سے بھی دیا جاتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں