صحیح بخاری حدیث ۵۷۰۷ - بدشگونی اور احتیاط کا حکم

بدشگونی کی حدیث: وہم سے بچو اور احتیاط اختیار کرو

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۷۰۷

وَقَالَ عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ ، وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ ، وَفِرَّ مِنَ الْمَجْذُومِ كَمَا تَفِرُّ مِنَ الْأَسَدِ "

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت لگنا، بدشگونی لینا، الو کا منحوس ہونا اور صفر کا منحوس ہونا یہ سب لغو خیالات ہیں البتہ جذامی شخص سے ایسے بھاگتا رہ جیسے کہ شیر سے بھاگتا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۷۰۷ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع بدشگونی اور احتیاط ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت لگنا، بدشگونی لینا، الو کو منحوس سمجھنا اور صفر کو منحوس جاننا لغو خیالات ہیں۔ اس میں انسان کو وہمی سوچ سے بچایا گیا ہے۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جذامی شخص سے ایسے بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہو۔ اس سے بات واضح ہوتی ہے کہ اسلام وہم اور نحوست کے خیالات کو رد کرتا ہے، لیکن بیماری کے معاملے میں احتیاط سے نہیں روکتا۔ اس حدیث میں لا عدوی حدیث، بدشگونی کی حدیث، صفر کی نحوست، اور جذام سے احتیاط جیسے سرچ الفاظ بہت اہم ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ دل میں بے بنیاد خوف نہ رکھا جائے، مگر ظاہر اسباب میں احتیاط کی جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بدشگونی اور نحوست کے خیالات کو لغو قرار دیا گیا ہے۔
  • صفر کے مہینے کو منحوس سمجھنا درست نہیں۔
  • بیماری کے معاملے میں احتیاط اختیار کی جا سکتی ہے۔
  • جذامی شخص سے دور رہنے کا حکم احتیاط کے طور پر آیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں