صحیح بخاری حدیث ۵۷۰۶ - عدت میں سرمہ لگانے کا حکم
عدت میں سرمہ لگانے کی حدیث اور چار ماہ دس دن کا حکم
صحیح بخاری : ۵۷۰۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۷۰۶
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْنَبَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ زَوْجُهَا فَاشْتَكَتْ عَيْنَهَا ، فَذَكَرُوهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَذَكَرُوا لَهُ الْكُحْلَ وَأَنَّهُ يُخَافُ عَلَى عَيْنِهَا ، فَقَالَ " لَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَمْكُثُ فِي بَيْتِهَا فِي شَرِّ أَحْلَاسِهَا أَوْ فِي أَحْلَاسِهَا فِي شَرِّ بَيْتِهَا ، فَإِذَا مَرَّ كَلْبٌ رَمَتْ بَعْرَةً فَهَلَّا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " .
ام سلمہ روایت:
ایک عورت کے شوہر کا انتقال ہو گیا (زمانہ عدت میں) اس عورت کی آنکھ دکھنے لگی تو لوگوں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سرمہ کا ذکر کیا اور یہ کہ (اگر سرمہ آنکھ میں نہ لگایا تو) ان کی آنکھ کے متعلق خطرہ ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (زمانہ جاہلیت میں) عدت گزارنے والی تم عورتوں کے اپنے گھر میں سب سے بدتر کپڑے میں پڑا رہنا پڑتا تھا یا (آپ نے یہ فرمایا کہ) اپنے کپڑوں میں گھر کے سب سے بدتر حصہ میں پڑا رہنا پڑتا تھا پھر جب کوئی کتا گزرتا تو اس پر وہ مینگنی پھینک کر مارتی (تب عدت سے باہر ہوتی) پس چار مہینے دس دن تک سرمہ نہ لگاؤ۔
صحیح بخاری حدیث ۵۷۰۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع عدت ہے، خاص طور پر شوہر کی وفات کے بعد عورت کے لیے سرمہ لگانے کا حکم۔ روایت میں ایک عورت کا ذکر ہے جس کے شوہر کا انتقال ہو گیا تھا اور عدت کے دنوں میں اس کی آنکھ میں تکلیف ہوئی۔ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سرمہ کے بارے میں عرض کیا اور آنکھ کے خطرے کا ذکر کیا۔ جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھلے زمانے کی سخت عدت کا ذکر فرمایا اور پھر صاف حکم دیا کہ چار مہینے دس دن تک سرمہ نہ لگاؤ۔ اس لیے اس حدیث میں عدت کی حدیث، سرمہ کا حکم، اور بیوہ عورت کی عدت جیسے اہم الفاظ آتے ہیں۔ بات سادہ ہے کہ عدت کے دنوں میں زینت سے بچنا مطلوب ہے، اور یہاں خاص طور پر سرمہ کا ذکر آیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شوہر کی وفات کے بعد عدت چار ماہ دس دن ہے۔
- عدت کے زمانے میں سرمہ لگانے سے منع کیا گیا ہے۔
- دینی حکم سمجھنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رجوع کیا گیا۔
- اسلام نے جاہلیت کی سخت رسموں کا ذکر کر کے عدت کی مدت واضح کی۔
