صحیح بخاری حدیث ۵۷۷۷ - خیبر کی زہر آلود بکری
زہر آلود بکری کی حدیث: خیبر کا واقعہ
صحیح بخاری : ۵۷۷۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۷۷۷
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ : " لَمَّا فُتِحَتْ خَيْبَرُ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ فِيهَا سَمٌّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اجْمَعُوا لِي مَنْ كَانَ هَا هُنَا مِنْ الْيَهُودِ فَجُمِعُوا لَهُ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي سَائِلُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَهَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْهُ ، فَقَالُوا : نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَبُوكُمْ ؟ ، قَالُوا : أَبُونَا فُلَانٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَذَبْتُمْ ، بَلْ أَبُوكُمْ فُلَانٌ ، فَقَالُوا : صَدَقْتَ وَبَرِرْتَ ، فَقَالَ : هَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْ شَيْءٍ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنْهُ ؟ فَقَالُوا : نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، وَإِنْ كَذَبْنَاكَ عَرَفْتَ كَذِبَنَا كَمَا عَرَفْتَهُ فِي أَبِينَا ، قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَهْلُ النَّارِ ؟ ، فَقَالُوا : نَكُونُ فِيهَا يَسِيرًا ثُمَّ تَخْلُفُونَنَا فِيهَا ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، اخْسَئُوا فِيهَا ، وَاللَّهِ لَا نَخْلُفُكُمْ فِيهَا أَبَدًا ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ فَهَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْ شَيْءٍ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنْهُ ؟ ، قَالُوا : نَعَمْ ، فَقَالَ : هَلْ جَعَلْتُمْ فِي هَذِهِ الشَّاةِ سَمًّا ؟ فَقَالُوا : نَعَمْ ، فَقَالَ : مَا حَمَلَكُمْ عَلَى ذَلِكَ ؟ فَقَالُوا : أَرَدْنَا إِنْ كُنْتَ كَذَّابًا نَسْتَرِيحُ مِنْكَ ، وَإِنْ كُنْتَ نَبِيًّا لَمْ يَضُرَّكَ " .
ابوہریرہ روایت:
جب خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بکری ہدیہ میں پیش کی گئی (ایک یہودی عورت زینب بنت حرث نے پیش کی تھی) جس میں زہر بھرا ہوا تھا، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہاں پر جتنے یہودی ہیں انہیں میرے پاس جمع کرو۔ چنانچہ سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع کئے گئے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم سے ایک بات پوچھوں گا کیا تم مجھے صحیح صحیح بات بتا دو گے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں اے ابوالقاسم! پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا پردادا کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ فلاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جھوٹ کہتے ہو تمہارا پردادا تو فلاں ہے۔ اس پر وہ بولے کہ آپ نے سچ فرمایا، درست فرمایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا اگر میں تم سے کوئی بات پوچھوں گا تو تم مجھے سچ سچ بتا دو گے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں اے ابوالقاسم! اور اگر ہم جھوٹ بولیں بھی تو آپ ہمارا جھوٹ پکڑ لیں گے جیسا کہ ابھی ہمارے پردادا کے متعلق آپ نے ہمارا جھوٹ پکڑ لیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دوزخ والے کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا کہ کچھ دن کے لیے تو ہم اس میں رہیں گے پھر آپ لوگ ہماری جگہ لے لیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو گے، واللہ! ہم اس میں تمہاری جگہ کبھی نہیں لیں گے۔آپ نے پھر ان سے دریافت فرمایا کیا اگر میں تم سے ایک بات پوچھوں تو تم مجھے اس کے متعلق صحیح صحیح بتا دو گے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا تم نے اس بکری میں زہر ملایا تھا، انہوں نے کہا کہ ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہیں اس کام پر کس جذبہ نے آمادہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ تھا کہ اگر آپ جھوٹے ہوں گے تو ہمیں آپ سے نجات مل جائے گی اور اگر سچے ہوں گے تو آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۷۷۷ کا خلاصہ
یہ زہر آلود بکری کی حدیث خیبر کے واقعہ سے متعلق ہے۔ فتح خیبر کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بکری ہدیہ میں پیش کی گئی جس میں زہر تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں موجود یہودیوں کو جمع کیا اور ان سے سوالات کیے۔ پہلے ان کے نسب کے بارے میں پوچھا، پھر دوزخ والوں کے بارے میں، اور آخر میں پوچھا کہ کیا تم نے اس بکری میں زہر ملایا تھا؟ انہوں نے اقرار کیا کہ ہاں۔ پھر انہوں نے اپنے مقصد کو بھی بیان کیا کہ اگر آپ جھوٹے ہوں تو ہم نجات پا جائیں اور اگر نبی ہوں تو زہر نقصان نہ دے گا۔ اس حدیث میں سوال کے ذریعے حقیقت واضح کرنے، جھوٹ پکڑنے اور اقرار لینے کا واقعہ بیان ہوا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حقیقت جاننے کے لیے واضح سوال کیا جا سکتا ہے۔
- جھوٹ کے مقابلے میں سچائی آخر کار ظاہر ہو سکتی ہے۔
- حدیث میں زہر آلود بکری کے واقعہ کو خاص واقعہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
