صحیح بخاری حدیث ۵۷۷۲ - بدشگونی کی حقیقت
بدشگونی کی حدیث: چھوت اور طیرہ کی نفی
صحیح بخاری : ۵۷۷۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۷۷۲
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَحَمْزَةُ ، أن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ ، إِنَّمَا الشُّؤْمُ فِي ثَلَاثٍ : فِي الْفَرَسِ ، وَالْمَرْأَةِ ، وَالدَّارِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت لگ جانے کی کوئی حقیقت نہیں ہے، بدشگونی کی کوئی اصل نہیں۔ (اگر ممکن ہوتی تو) نحوست تین چیزوں میں ہوتی، گھوڑے میں، عورت میں اور گھر میں۔
صحیح بخاری حدیث ۵۷۷۲ کا خلاصہ
یہ بدشگونی کی حدیث حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت لگ جانے کی کوئی حقیقت نہیں اور بدشگونی کی کوئی اصل نہیں۔ پھر فرمایا کہ اگر نحوست کسی چیز میں ہوتی تو تین چیزوں میں ہوتی: گھوڑے میں، عورت میں اور گھر میں۔ اس حدیث میں دو باتیں ساتھ آئی ہیں۔ پہلی بات جاہلی بدفالی اور بدشگونی کی نفی ہے۔ دوسری بات ایک خاص انداز میں تین چیزوں کا ذکر ہے۔ اس لیے حدیث کو اپنی جگہ پر سمجھنا چاہیے اور اس سے عام بدگمانی یا لوگوں کو بلا وجہ منحوس سمجھنے کا رویہ نہیں لینا چاہیے۔ اصل پیغام یہ ہے کہ مسلمان بے بنیاد خوف اور بدفالی سے بچے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بدشگونی کو مستقل حقیقت سمجھنا درست نہیں۔
- حدیث میں چھوت اور طیرہ دونوں کی نفی آئی ہے۔
- کسی چیز یا شخص کے بارے میں بے بنیاد بدگمانی سے بچنا چاہیے۔
