صحیح بخاری حدیث ۵۷۷۱ - بیمار اور تندرست اونٹ
بیمار اونٹوں والی حدیث: احتیاط کی نبوی ہدایت
صحیح بخاری : ۵۷۷۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۷۷۱
وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ : سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ بَعْدُ يَقُولُ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُورِدَنَّ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ " ، وَأَنْكَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ حَدِيثَ الْأَوَّلِ ، قُلْنَا أَلَمْ تُحَدِّثْ أَنَّهُ لَا عَدْوَى فَرَطَنَ بِالْحَبَشِيَّةِ ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : فَمَا رَأَيْتُهُ نَسِيَ حَدِيثًا غَيْرَهُ .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنے بیمار اونٹوں کو کسی کے صحت مند اونٹوں میں نہ لے جائے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پہلی حدیث کا انکار کیا۔ ہم نے (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) عرض کیا کہ آپ ہی نے ہم سے یہ حدیث نہیں بیان کی ہے کہ چھوت یہ نہیں ہوتا پھر وہ (غصہ میں) حبشی زبان بولنے لگے۔ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ اس حدیث کے سوا میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اور کوئی حدیث بھولتے نہیں دیکھا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۷۷۱ کا خلاصہ
یہ حدیث بیمار اور تندرست اونٹوں کے بارے میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنے بیمار اونٹوں کو کسی کے صحت مند اونٹوں میں نہ لے جائے۔ متن میں یہ بھی آیا ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پہلے والی حدیث کے بارے میں گفتگو ہوئی، جس میں چھوت کی نفی بیان ہوئی تھی۔ ابوسلمہ نے کہا کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اس حدیث کے سوا کوئی حدیث بھولتے نہیں دیکھا۔ اس روایت کا اصل قابل عمل پہلو یہ ہے کہ بیماری والے جانور کو صحت مند جانوروں میں شامل کرنے سے روکا گیا۔ اس میں احتیاط، ذمہ داری اور دوسروں کے مال کو نقصان سے بچانے کی ہدایت صاف نظر آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیمار جانوروں کو صحت مند جانوروں سے الگ رکھنا چاہیے۔
- دوسروں کے مال کو ممکنہ نقصان سے بچانا ذمہ داری ہے۔
- حدیث میں احتیاط کا عملی حکم صاف الفاظ میں آیا ہے۔
