صحیح بخاری حدیث ۵۷۹۵ - نبی صلى الله عليه وسلم کی قمیص اور کفن

نبی صلى الله عليه وسلم کی قمیص کفن میں: ایک خاص واقعہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۷۹۵

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ قَبْرَهُ ، فَأَمَرَ بِهِ ، فَأُخْرِجَ وَوُضِعَ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ ، وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ .

جابر بن عبداللہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی (منافق) کے پاس جب اسے قبر میں داخل کیا جا چکا تھا تشریف لائے پھر آپ کے حکم سے اس کی لاش نکالی گئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں پر اسے رکھا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر دم کرتے ہوئے اپنی قمیص پہنائی اور اللہ ہی خوب جاننے والا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۷۹۵ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع کفن اور قمیص کا خاص واقعہ ہے۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کے پاس اس وقت آئے جب اسے قبر میں داخل کیا جا چکا تھا۔ آپ کے حکم سے اس کی لاش نکالی گئی، اسے آپ کے گھٹنوں پر رکھا گیا، پھر آپ نے اس پر دم کیا اور اپنی قمیص پہنائی۔ روایت کے آخر میں الفاظ ہیں: اللہ ہی خوب جاننے والا ہے۔ اس حدیث میں ہمیں ایک واقعہ بتایا گیا ہے؛ اس سے آگے کوئی اضافی دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔ نبی صلى الله عليه وسلم کی قمیص کفن میں دینے کا یہ معاملہ خاص طور پر اسی شخص کے واقعہ میں بیان ہوا ہے۔ قاری کے لیے اہم بات یہ ہے کہ حدیث کے الفاظ پر ٹھہرا جائے اور اپنی طرف سے نتیجہ نہ بڑھایا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ میں اپنی قمیص پہنائی۔
  • لاش قبر میں داخل کیے جانے کے بعد آپ کے حکم سے نکالی گئی۔
  • روایت کے آخر میں اللہ ہی خوب جاننے والا ہے کے الفاظ احتیاط سکھاتے ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں