صحیح بخاری حدیث ۵۷۹۴ - محرم کے ممنوع لباس

محرم کا لباس: احرام میں کیا نہیں پہننا چاہیے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۷۹۴

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ ؟ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ الْقَمِيصَ ، وَلَا السَّرَاوِيلَ ، وَلَا الْبُرْنُسَ ، وَلَا الْخُفَّيْنِ ، إِلَّا أَنْ لَا يَجِدَ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ مَا هُوَ أَسْفَلُ مِنَ الْكَعْبَيْنِ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

ایک صاحب نے عرض کیا: یا رسول اللہ! محرم کس طرح کا کپڑا پہنے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ محرم قمیص، پاجامہ، برنس (ٹوپی یا سر پر پہننے کی کوئی چیز) اور موزے نہیں پہنے گا البتہ اگر اسے چپل نہ ملیں تو موزوں ہی کو ٹخنوں تک کاٹ کر پہن لے وہ ہی جوتی کی طرح ہو جائیں گے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۷۹۴ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع احرام کا لباس ہے۔ ایک شخص نے پوچھا کہ محرم کون سا کپڑا پہنے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں بتایا کہ محرم قمیص، پاجامہ، برنس یعنی سر ڈھانپنے والی چیز، اور موزے نہیں پہنے گا۔ پھر ایک آسانی بھی بیان ہوئی کہ اگر چپل نہ ملیں تو موزوں کو ٹخنوں تک کاٹ کر پہن لیا جائے، تاکہ وہ جوتی کی طرح ہو جائیں۔ محرم کا لباس عام لباس سے الگ رکھا گیا ہے، اور اس روایت میں ممنوع چیزیں صاف الفاظ میں آتی ہیں۔ حدیث کا انداز سوال و جواب کا ہے، اس لیے مسئلہ آسانی سے سمجھ آتا ہے۔ احرام میں لباس کا مقصد سادگی اور خاص حالت کا خیال رکھنا ہے، مگر یہاں ہم صرف وہی بات لیتے ہیں جو روایت میں بیان ہوئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • محرم کے لیے قمیص، پاجامہ، برنس اور موزے پہننے سے منع کیا گیا۔
  • چپل نہ ملنے کی صورت میں موزوں کو ٹخنوں تک کاٹ کر پہننے کی اجازت بیان ہوئی۔
  • احرام کے لباس کا مسئلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کے جواب میں واضح فرمایا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں