صحیح بخاری حدیث ۵۸۰۰ - مخرمہ رضی اللہ عنہ کو قباء دینا

مخرمہ رضی اللہ عنہ کی قباء کی حدیث: دل جوئی کا خوبصورت انداز

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۸۰۰

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَ : " قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةً وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ شَيْئًا ، فَقَالَ مَخْرَمَةُ : يَا بُنَيِّ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ ، فَقَالَ : ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي ، قَالَ : فَدَعَوْتُهُ لَهُ ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْهَا ، فَقَالَ : خَبَأْتُ هَذَا لَكَ ، قَالَ : فَنَظَرَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : رَضِيَ مَخْرَمَةُ " .

مسور بن مخرمہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند قبائیں تقسیم کیں اور مخرمہ رضی اللہ عنہ کو کچھ نہیں دیا تو مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا بیٹے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو چنانچہ میں اپنے والد کو ساتھ لے کر چلا، انہوں نے مجھ سے کہا کہ اندر جاؤ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا ذکر کر دو۔میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مخرمہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا تو آپ باہر تشریف لائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں قباؤں میں سے ایک قباء لیے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ میں نے تمہارے ہی لیے رکھ چھوڑی تھی۔ مسور نے بیان کیا کہ مخرمہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مخرمہ خوش ہو گئے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۸۰۰ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع دل جوئی اور خوش دلی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند قبائیں تقسیم کیں، مگر مخرمہ رضی اللہ عنہ کو اس وقت کچھ نہیں ملا۔ انہوں نے اپنے بیٹے مسور رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو۔ مسور رضی اللہ عنہ نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے والد کا ذکر کیا۔ آپ باہر تشریف لائے اور انہی قباؤں میں سے ایک قباء لیے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ یہ میں نے تمہارے لیے رکھ چھوڑی تھی۔ پھر جب مخرمہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مخرمہ خوش ہو گئے۔ مخرمہ رضی اللہ عنہ کی قباء کی حدیث میں دوسروں کے دل کا خیال رکھنے کا بہت نرم انداز ملتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مخرمہ رضی اللہ عنہ کے لیے قباء محفوظ رکھی تھی۔
  • مسور رضی اللہ عنہ نے اپنے والد کی بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائی۔
  • کسی کا دل خوش کرنا اس واقعہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ظاہر ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں