صحیح بخاری حدیث ۵۸۰۱ - ریشم کا لباس اور تقویٰ
ریشم کا لباس حدیث: متقیوں کے لیے کیا مناسب ہے
صحیح بخاری : ۵۸۰۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۸۰۱
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ : " أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُّوجُ حَرِيرٍ ، فَلَبِسَهُ ثُمَّ صَلَّى فِيهِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَزَعَهُ نَزْعًا شَدِيدًا كَالْكَارِهِ لَهُ ، ثُمَّ قَالَ : لَا يَنْبَغِي هَذَا لِلْمُتَّقِينَ " ، تَابَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ اللَّيْثِ ، وَقَالَ غَيْرُهُ ، فَرُّوجٌ حَرِيرٌ .
´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے، ان سے ابوالخیر نے اور ان سے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشم کی فروج (قباء) ہدیہ میں دی گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہنا (ریشم کا مردوں کے لیے حرمت کے حکم سے پہلے) اور اسی کو پہنے ہوئے نماز پڑھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بڑی تیزی کے ساتھ اتار ڈالا جیسے آپ اس سے ناگواری محسوس کرتے ہوں پھر فرمایا کہ یہ متقیوں کے لیے مناسب نہیں ہے۔ اس روایت کی متابعت عبداللہ بن یوسف نے کی ان سے لیث نے اور عبداللہ بن یوسف کے علاوہ دوسروں نے کہا کہ «فروج حرير.» ۔
صحیح بخاری حدیث ۵۸۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع ریشم کا لباس ہے۔ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشم کی فروج یعنی قباء ہدیہ میں دی گئی۔ آپ نے اسے پہنا اور اسی کو پہنے ہوئے نماز بھی پڑھی۔ پھر آپ نے نماز کے بعد اسے بڑی تیزی سے اتار دیا، جیسے آپ کو اس سے ناگواری ہو۔ اس کے بعد فرمایا کہ یہ متقیوں کے لیے مناسب نہیں ہے۔ ریشم کا لباس حدیث میں ایک واقعہ اور پھر صاف جملہ دونوں موجود ہیں۔ اس روایت سے یہی بات لی جائے گی کہ اس خاص ریشمی لباس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسندیدگی ظاہر فرمائی اور متقیوں کے لیے اسے مناسب نہیں بتایا۔ اس میں ہدیہ ملنے، پہننے، نماز پڑھنے اور پھر اتارنے کی ترتیب بھی صاف بیان ہوئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ریشمی فروج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ میں دی گئی تھی۔
- آپ نے اسے نماز کے بعد تیزی سے اتارا، جیسے ناگواری محسوس کی۔
- آپ نے فرمایا کہ یہ متقیوں کے لیے مناسب نہیں ہے۔
