صحیح بخاری حدیث ۶۰۸۱ - ریشمی لباس پہننے کا حکم
ریشم پہننے کی حدیث: لباس، احتیاط اور مال کا استعمال
صحیح بخاری : ۶۰۸۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۸۱
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : قَالَ لِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : مَا الْإِسْتَبْرَقُ ؟ قُلْتُ : مَا غَلُظَ مِنَ الدِّيبَاجِ وَخَشُنَ مِنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ ، يَقُولُ : رَأَى عُمَرُ عَلَى رَجُلٍ حُلَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْتَرِ هَذِهِ فَالْبَسْهَا لِوَفْدِ النَّاسِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ " فَمَضَى مِنْ ذَلِكَ مَا مَضَى ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَيْهِ بِحُلَّةٍ فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : بَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ وَقَدْ قُلْتَ فِي مِثْلِهَا مَا قُلْتَ ، قَالَ : " إِنَّمَا بَعَثْتُ إِلَيْكَ لِتُصِيبَ بِهَا مَالًا " فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَكْرَهُ الْعَلَمَ فِي الثَّوْبِ لِهَذَا الْحَدِيثِ .
یحییٰ بن ابی اسحاق روایت:
مجھ سے سالم بن عبداللہ نے پوچھا کہ «إستبرق» کیا چیز ہے؟ میں نے کہا کہ دیبا سے بنا ہوا دبیز اور کھردرا کپڑا پھر انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو استبرق کا جوڑا پہنے ہوئے دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسے لے کر حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اسے آپ خرید لیں اور وفد جب آپ سے ملاقات کے لیے آئیں تو ان کی ملاقات کے وقت اسے پہن لیا کریں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ریشم تو وہی پہن سکتا ہے جس کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہ ہو خیر اس بات پر ایک مدت گزر گئی پھر ایسا ہوا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود انہیں ایک جوڑا بھیجا تو وہ اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا آپ نے یہ جوڑا میرے لیے بھیجا ہے، حالانکہ اس کے بارے میں آپ اس سے پہلے ایسا ارشاد فرما چکے ہیں؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ میں نے تمہارے پاس اس لیے بھیجا ہے تاکہ تم اس کے ذریعہ (بیچ کر) مال حاصل کرو۔ چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اسی حدیث کی وجہ سے کپڑے میں (ریشم کے) بیل بوٹوں کو بھی مکروہ جانتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۰۸۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو استبرق یعنی دبیز ریشمی جوڑا پہنے دیکھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ اسے خرید لیں اور وفد کی ملاقات کے وقت پہن لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ریشم وہی پہنتا ہے جس کا آخرت میں حصہ نہیں۔ بعد میں آپ نے عمر رضی اللہ عنہ کو ایسا جوڑا بھیجا تو انہوں نے پوچھا کہ آپ نے تو اس کے بارے میں پہلے سخت بات فرمائی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے یہ تمہیں اس لیے بھیجا ہے کہ تم اس کے ذریعے مال حاصل کرو۔ اس حدیث کا اصل موضوع ریشمی لباس، لباس کا حکم اور استعمال کا فرق ہے۔ پہننے اور بیچ کر مال حاصل کرنے میں فرق حدیث کے اندر ہی بتایا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ریشمی لباس پہننے کے بارے میں حدیث میں سخت تنبیہ آئی ہے۔
- کسی چیز کو پہننے اور اسے مال حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنے میں فرق ہو سکتا ہے۔
- صحابہ کرام حدیث سن کر لباس کے معاملے میں احتیاط کرتے تھے۔
