صحیح بخاری حدیث ۶۰۸۰ - گھر والوں کے لیے نماز اور دعا
گھر میں نماز اور دعا کی حدیث: نبی صلى الله عليه وسلم کی زیارت کا ادب
صحیح بخاری : ۶۰۸۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۸۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَارَ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَطَعِمَ عِنْدَهُمْ طَعَامًا ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ أَمَرَ بِمَكَانٍ مِنَ الْبَيْتِ فَنُضِحَ لَهُ عَلَى بِسَاطٍ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَدَعَا لَهُمْ " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ انصار کے گھرانہ میں ملاقات کے لیے تشریف لے گئے اور انہیں کے یہاں کھانا کھایا، جب آپ واپس تشریف لانے لگے تو آپ کے حکم سے ایک چٹائی پر پانی چھڑکا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی اور گھر والوں کے لیے دعا کی۔
صحیح بخاری حدیث ۶۰۸۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک گھرانے میں ملاقات کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ نے ان کے ہاں کھانا کھایا۔ جب واپس جانے لگے تو آپ کے حکم سے گھر کے ایک حصے میں چٹائی پر پانی چھڑکا گیا، پھر آپ نے اس پر نماز پڑھی اور گھر والوں کے لیے دعا کی۔ اس حدیث کا اصل موضوع زیارت، دعا اور گھر میں نماز کا ذکر ہے۔ روایت ہمیں ایک سادہ گھریلو منظر دکھاتی ہے: مہمان نوازی ہوئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور دعا دی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کے گھر جانا، ان کی خوشی قبول کرنا اور ان کے لیے خیر کی دعا کرنا خوبصورت اسلامی رویہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مہمان نوازی قبول کرنا اچھے تعلقات کا حصہ ہے۔
- گھر والوں کے لیے دعا کرنا خیر خواہی ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے سادہ جگہ پر نماز پڑھی اور دعا فرمائی۔
