صحیح بخاری حدیث ۶۰۷۹ - مکہ چھوڑنے کی اجازت اور ابو بکرؓ کے گھر آمد

ہجرت کی حدیث: مکہ چھوڑنے کی اجازت کا واقعہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۷۹

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ، فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَيَّ إِلَّا وَهُمَا يَدِينَانِ الدِّينَ ، وَلَمْ يَمُرَّ عَلَيْهِمَا يَوْمٌ إِلَّا يَأْتِينَا فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَفَيِ النَّهَارِ بُكْرَةً وَعَشِيَّةً ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ فِي بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ قَالَ قَائِلٌ : هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَأْتِينَا فِيهَا ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : مَا جَاءَ بِهِ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ إِلَّا أَمْرٌ ، قَالَ : " إِنِّي قَدْ أُذِنَ لِي بِالْخُرُوجِ " .

عائشہ روایت:

جب میں نے ہوش سنبھالا تو اپنے والدین کو دین اسلام کا پیرو پایا اور کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا کہ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس صبح و شام تشریف نہ لاتے ہوں، ایک دن ابوبکر رضی اللہ عنہ (والد ماجد) گھر میں بھری دوپہر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے کہا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں، یہ ایسا وقت تھا کہ اس وقت ہمارے یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کا معمول نہیں تھا، ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے کہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تشریف لانا کسی خاص وجہ ہی سے ہو سکتا ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے مکہ چھوڑنے کی اجازت مل گئی ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۰۷۹ کا خلاصہ

اس روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے گھر کے ماحول کا ذکر کرتی ہیں کہ انہوں نے اپنے والدین کو اسلام پر پایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح و شام ان کے گھر تشریف لاتے تھے۔ پھر ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وقت آئے جب آپ عام طور پر نہیں آتے تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سمجھ لیا کہ اس وقت آمد کسی خاص وجہ سے ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے مکہ چھوڑنے کی اجازت مل گئی ہے۔ اس حدیث کا اصل موضوع ہجرت، دینی وابستگی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے گھر سے تعلق ہے۔ روایت میں صرف اتنی بات بتائی گئی ہے، اس لیے بات کو اسی حد میں رکھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دین سے وابستہ گھرانے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی صحبت کو اہم سمجھتے تھے۔
  • خاص وقت میں آمد سے حضرت ابو بکرؓ نے معاملے کی اہمیت سمجھی۔
  • ہجرت کا فیصلہ اجازت کے بعد بیان کیا گیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں