صحیح بخاری حدیث ۶۰۸۲ - ولیمہ کرو خواہ ایک بکری ہی ہو
ولیمہ کی حدیث: نکاح کے بعد دعوت کا سادہ حکم
صحیح بخاری : ۶۰۸۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۸۲
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ عَلَيْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، فَآخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ " .
انس روایت:
جب عبدالرحمٰن بن عوف ہمارے یہاں آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں اور سعد بن ربیع میں بھائی چارگی کرائی تو پھر (جب عبدالرحمٰن بن عوف نے نکاح کیا تو) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب ولیمہ کر خواہ ایک بکری کا ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۶۰۸۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارگی کرائی۔ پھر جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نکاح کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ولیمہ کرو، خواہ ایک بکری ہی کا ہو۔ اس حدیث کا اصل موضوع ولیمہ، نکاح اور اسلامی سادگی ہے۔ حدیث میں بڑی دعوت یا دکھاوے کا ذکر نہیں، بلکہ نکاح کے بعد ولیمہ کی طرف ہدایت ہے۔ جملہ “خواہ ایک بکری ہی ہو” سادگی اور آسانی کا اشارہ دیتا ہے۔ اس سے نکاح کے بعد خوشی بانٹنے کا ایک صاف اور آسان طریقہ معلوم ہوتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نکاح کے بعد ولیمہ کرنا مسنون عمل کے طور پر بیان ہوا ہے۔
- ولیمہ میں سادگی رکھی جا سکتی ہے۔
- خوشی کو جائز طریقے سے لوگوں کے ساتھ بانٹنا اچھا عمل ہے۔
