صحیح بخاری حدیث ۶۰۸۳ - قریش اور انصار کے درمیان معاہدہ

مواخات کی حدیث: قریش اور انصار کے درمیان بھائی چارہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۸۳

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَبَّاحٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَبَلَغَكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ ؟ فَقَالَ : " قَدْ حَالَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِي .

عاصم بن سلیمان احول روایت:

´ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن زکریا نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم بن سلیمان احول نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا تم کو یہ بات معلوم ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام میں معاہدہ (حلف) کی کوئی اصل نہیں؟ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود قریش اور انصار کے درمیان میرے گھر میں حلف کرائی تھی۔

صحیح بخاری حدیث ۶۰۸۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں عاصم نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ کو یہ بات پہنچی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام میں حلف کی کوئی اصل نہیں؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود قریش اور انصار کے درمیان میرے گھر میں حلف کرایا تھا۔ اس حدیث کا اصل موضوع مواخات، معاہدہ اور مسلمانوں کے درمیان تعاون ہے۔ روایت میں ایک سوال اور اس کا جواب ہے، اس لیے اس سے بڑھ کر دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اپنے مشاہدے یا علم کی بنیاد پر وہ واقعہ بیان کیا جو ان کے گھر میں ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قریش اور انصار کے درمیان باہمی تعلق کو مضبوط کیا گیا تھا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صحابہ کرام سوال کا جواب واقعے کی بنیاد پر دیتے تھے۔
  • قریش اور انصار کے درمیان تعلق کو مضبوط کیا گیا۔
  • دینی مسئلے میں سنی سنائی بات کی تحقیق کی جا سکتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں