صحیح بخاری حدیث ۶۰۸۴ - تین طلاق کے بعد سابق شوہر کے پاس واپسی کا حکم

تین طلاق کی حدیث: سابق شوہر کے پاس واپسی کب ممکن ہے؟

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۸۴

حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيَّ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَبَتَّ طَلَاقَهَا فَتَزَوَّجَهَا بَعْدَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزَّبِيرِ ، فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ فَتَزَوَّجَهَا بَعْدَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزَّبِيرِ ، وَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا مَعَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا مِثْلُ هَذِهِ الْهُدْبَةِ ، لِهُدْبَةٍ أَخَذَتْهَا مِنْ جِلبابهَا ، قَالَ : وَأَبُو بَكْرٍ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَابْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ جَالِسٌ بباب الْحُجْرَةِ لِيُؤْذَنَ لَهُ ، فَطَفِقَ خَالِدٌ يُنَادِي أَبَا بَكْرٍ ، يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَا تَزْجُرُ هَذِهِ عَمَّا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ وَمَا يَزِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى التَّبَسُّمِ ، ثُمَّ قَالَ : " لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ ، لَا حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ " .

عائشہ روایت:

رفاعہ قرظی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور طلاق رجعی نہیں دی۔ اس کے بعد ان سے عبدالرحمٰن بن زبیر رضی اللہ عنہما نے نکاح کر لیا، لیکن وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں رفاعہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی لیکن انہوں نے مجھے تین طلاقیں دے دیں۔ پھر مجھ سے عبدالرحمٰن بن زبیر رضی اللہ عنہما نے نکاح کر لیا، لیکن اللہ کی قسم ان کے پاس تو پلو کی طرح کے سوا اور کچھ نہیں۔ (مراد یہ کہ وہ نامرد ہیں) اور انہوں نے اپنے چادر کا پلو پکڑ کر بتایا (راوی نے بیان کیا کہ) ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور سعید بن العاص کے لڑکے خالد حجرہ کے دروازے پر تھے اور اندر داخل ہونے کی اجازت کے منتظر تھے۔خالد بن سعید اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آواز دے کر کہنے لگے کہ آپ اس عورت کو ڈانٹتے نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کس طرح کی بات کہتی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم کے سوا اور کچھ نہیں فرمایا۔ پھر فرمایا، غالباً تم رفاعہ کے پاس دوبارہ جانا چاہتی ہو لیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک تم ان کا (عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کا) مزا نہ چکھ لو اور وہ تمہارا مزہ نہ چکھ لیں۔

صحیح بخاری حدیث ۶۰۸۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ کی بیوی کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ رفاعہ رضی اللہ عنہ نے انہیں تین طلاقیں دے دیں۔ پھر ان کا نکاح عبدالرحمٰن بن زبیر رضی اللہ عنہما سے ہوا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور اپنی حالت بیان کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایا اور پھر فرمایا کہ شاید تم رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی ہو، لیکن یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک تم عبدالرحمٰن کا مزہ نہ چکھ لو اور وہ تمہارا مزہ نہ چکھ لے۔ عام فہم انداز میں اس حدیث کا اصل موضوع تین طلاق کے بعد سابق شوہر کے پاس واپسی کی شرط ہے۔ حدیث میں نکاح کے صرف نام کو کافی نہیں بتایا گیا، بلکہ نکاحی تعلق کا ذکر کیا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • تین طلاق کے بعد سابق شوہر کے پاس واپسی کے لیے صرف نیا نکاح کافی نہیں بتایا گیا۔
  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے عورت کی بات سنی اور جواب دیا۔
  • طلاق اور نکاح کے معاملات میں شرعی حدوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں