صحیح بخاری حدیث ۵۸۱۰ - نبی کریم کی سخاوت

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت اور چادر کا واقعہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۸۱۰

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ بِبُرْدَةٍ ، قَالَ : سَهْلٌ هَلْ تَدْرِي مَا الْبُرْدَةُ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، هِيَ الشَّمْلَةُ مَنْسُوجٌ فِي حَاشِيَتِهَا ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَسَجْتُ هَذِهِ بِيَدِي أَكْسُوكَهَا ، فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا وَإِنَّهَا لَإِزَارُهُ ، فَجَسَّهَا رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ اكْسُنِيهَا ، قَالَ : نَعَمْ ، فَجَلَسَ مَا شَاءَ اللَّهُ فِي الْمَجْلِسِ ، ثُمَّ رَجَعَ فَطَوَاهَا ، ثُمَّ أَرْسَلَ بِهَا إِلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ : مَا أَحْسَنْتَ سَأَلْتَهَا إِيَّاهُ وَقَدْ عَرَفْتَ أَنَّهُ لَا يَرُدُّ سَائِلًا ، فَقَالَ الرَّجُلُ : وَاللَّهِ مَا سَأَلْتُهَا إِلَّا لِتَكُونَ كَفَنِي يَوْمَ أَمُوتُ ، قَالَ سَهْلٌ : فَكَانَتْ كَفَنَهُ " .

سہل بن سعد روایت:

ایک عورت ایک چادر لے کر آئیں (جو اس نے خود بنی تھی) سہل رضی اللہ عنہ نے کہا تمہیں معلوم ہے وہ پردہ کیا تھا پھر بتلایا کہ یہ ایک اونی چادر تھی جس کے کناروں پر حاشیہ ہوتا ہے۔ ان خاتون نے حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ چادر میں نے خاص آپ کے اوڑھنے کے لیے بنی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چادر ان سے اس طرح لی گویا آپ کو اس کی ضرورت ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے تہمد کے طور پر پہن کر ہمارے پاس تشریف لائے۔جماعت صحابہ میں سے ایک صاحب (عبدالرحمٰن بن عوف) نے اس چادر کو چھوا اور عرض کی یا رسول اللہ! یہ مجھے عنایت فرما دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا۔ جتنی دیر اللہ نے چاہا آپ مجلس میں بیٹھے رہے پھر تشریف لے گئے اور اس چادر کو لپیٹ کر ان صاحب کے پاس بھجوا دیا۔صحابہ نے اس پر ان سے کہا تم نے اچھی بات نہیں کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ چادر مانگ لی۔ تمہیں معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی سائل کو محروم نہیں فرماتے۔ ان صاحب نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے تو صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اس لیے مانگی ہے کہ جب میں مروں تو یہ میرا کفن ہو۔ سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا چنانچہ وہ چادر اس صحابی کے کفن ہی میں استعمال ہوئی۔

صحیح بخاری حدیث ۵۸۱۰ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع سخاوت ہے۔ ایک خاتون اپنے ہاتھ سے بنی ہوئی چادر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی ضرورت تھی، پھر بھی جب ایک صحابی نے وہ چادر مانگی تو آپ نے انکار نہیں فرمایا۔ بعد میں صحابہ نے اس شخص سے کہا کہ تم نے اچھی بات نہیں کی، کیونکہ تم جانتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سائل کو واپس نہیں کرتے۔ اس صحابی نے بتایا کہ اس نے چادر اپنے کفن کے لیے مانگی تھی۔ اس حدیث میں نبی کی سخاوت، چادر کی حدیث، سائل کو نہ لوٹانا، اور نیت کی سادگی ایک ہی واقعے میں نظر آتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ضرورت کے باوجود سائل کو عطا فرماتے تھے۔
  • صحابہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب کا بہت خیال رکھتے تھے۔
  • صحابی نے چادر اپنے کفن کے لیے مانگی، جیسا کہ روایت میں آیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں