صحیح بخاری حدیث ۱۲۷۷ - نبی صلى الله عليه وسلم کی چادر اور کفن کی نیت

نبی صلى الله عليه وسلم کی سخاوت کی حدیث: چادر جو کفن بنی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۲۷۷

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبُرْدَةٍ مَنْسُوجَةٍ فِيهَا حَاشِيَتُهَا ، أَتَدْرُونَ مَا الْبُرْدَةُ ؟ , قَالُوا : الشَّمْلَةُ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَتْ : نَسَجْتُهَا بِيَدِي فَجِئْتُ لِأَكْسُوَكَهَا ، فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا وَإِنَّهَا إِزَارُهُ فَحَسَّنَهَا فُلَانٌ , فَقَالَ : اكْسُنِيهَا مَا أَحْسَنَهَا ؟ , قَالَ : الْقَوْمُ مَا أَحْسَنْتَ لَبِسَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا ، ثُمَّ سَأَلْتَهُ وَعَلِمْتَ أَنَّهُ لَا يَرُدُّ ، قَالَ : إِنِّي وَاللَّهِ مَا سَأَلْتُهُ لِأَلْبَسَهُ إِنَّمَا سَأَلْتُهُ لِتَكُونَ كَفَنِي ؟ " , قَالَ سَهْلٌ : فَكَانَتْ كَفَنَهُ .

سہل روایت:

ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بنی ہوئی حاشیہ دار چادر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تحفہ لائی۔ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے (حاضرین سے) پوچھا کہ تم جانتے ہو چادر کیا؟ لوگوں نے کہا کہ جی ہاں! شملہ۔ سہل رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں شملہ (تم نے ٹھیک بتایا) خیر اس عورت نے کہا کہ میں نے اپنے ہاتھ سے اسے بنا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنانے کے لیے لائی ہوں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کپڑا قبول کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اس وقت ضرورت بھی تھی پھر اسے ازار کے طور پر باندھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو ایک صاحب (عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ) نے کہا کہ یہ تو بڑی اچھی چادر ہے ‘ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پہنا دیجئیے۔لوگوں نے کہا کہ آپ نے (مانگ کر) کچھ اچھا نہیں کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی ضرورت کی وجہ سے پہنا تھا اور تم نے یہ مانگ لیا حالانکہ تم کو معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کا سوال رد نہیں کرتے۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم! میں نے اپنے پہننے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ چادر نہیں مانگی تھی۔ بلکہ میں اسے اپنا کفن بناؤں گا۔ سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہی چادر ان کا کفن بنی۔

صحیح بخاری حدیث ۱۲۷۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک عورت نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے لیے اپنے ہاتھ سے بنی ہوئی حاشیہ دار چادر لائی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اسے قبول فرمایا، جبکہ آپ صلى الله عليه وسلم کو اس کی ضرورت بھی تھی۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم اسے ازار کے طور پر باندھ کر باہر آئے۔ ایک صحابی نے وہ چادر مانگ لی۔ لوگوں نے انہیں کہا کہ آپ نے اچھا نہیں کیا، کیونکہ نبی صلى الله عليه وسلم کو اس کی ضرورت تھی اور آپ صلى الله عليه وسلم سوال کرنے والے کو رد نہیں کرتے۔ اس صحابی نے وضاحت کی کہ انہوں نے اسے پہننے کے لیے نہیں مانگا، بلکہ چاہتے تھے کہ وہ ان کا کفن بنے۔ سہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہی چادر ان کا کفن بنی۔ اس حدیث میں نبی صلى الله عليه وسلم کی عطا، صحابی کی نیت اور کفن سے محبت کا خاص پہلو آتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم ضرورت کے باوجود سوال کرنے والے کو رد نہیں کرتے تھے۔
  • عورت نے اپنے ہاتھ سے چادر بنا کر تحفہ پیش کیا۔
  • صحابی نے چادر پہننے کے لیے نہیں، کفن کے لیے مانگی۔
  • حدیث میں نیت کی وضاحت اہم انداز میں سامنے آتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں