صحیح بخاری حدیث ۱۲۷۶ - اللہ کے لیے ہجرت اور مصعب کا کفن

اللہ کے لیے ہجرت کی حدیث: مصعب بن عمیر کا مختصر کفن

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۲۷۶

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا شَقِيقٌ ، حَدَّثَنَا خَبَّابٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : " هَاجَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَلْتَمِسُ وَجْهَ اللَّهِ فَوَقَعَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ ، فَمِنَّا مَنْ مَاتَ لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ ، وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ نَجِدْ مَا نُكَفِّنُهُ إِلَّا بُرْدَةً إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ خَرَجَ رَأْسُهُ , فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْنُغَطِّيَ رَأْسَهُ ، وَأَنْ نَجْعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ مِنَ الْإِذْخِرِ " .

خباب بن ارت روایت:

ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف اللہ کے لیے ہجرت کی۔ اب ہمیں اللہ تعالیٰ سے اجر ملنا ہی تھا۔ ہمارے بعض ساتھی تو انتقال کر گئے اور (اس دنیا میں) انہوں نے اپنے کئے کا کوئی پھل نہیں دیکھا۔ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی انہیں لوگوں میں سے تھے اور ہمارے بعض ساتھیوں کا میوہ پک گیا اور وہ چن چن کر کھاتا ہے۔مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ) احد کی لڑائی میں شہید ہوئے ہم کو ان کے کفن میں ایک چادر کے سوا اور کوئی چیز نہ ملی اور وہ بھی ایسی کہ اگر اس سے سر چھپاتے ہیں تو پاؤں کھل جاتا ہے اور اگر پاؤں ڈھکتے تو سر کھل جاتا۔ آخر یہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سر کو چھپا دیں اور پاؤں پر سبز گھاس اذخر نامی ڈال دیں۔

صحیح بخاری حدیث ۱۲۷۶ کا خلاصہ

خباب بن ارت رضی اللہ عنہ اس حدیث میں بتاتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے ساتھ اللہ کے لیے ہجرت کی، اس لیے اجر اللہ کے ذمے تھا۔ پھر انہوں نے کہا کہ کچھ ساتھی دنیا میں اپنے عمل کا پھل دیکھے بغیر چلے گئے، ان میں مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ وہ احد کے دن شہید ہوئے۔ ان کے کفن کے لیے صرف ایک چادر ملی، جس سے سر ڈھانکتے تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں ڈھانکتے تو سر کھل جاتا۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے حکم دیا کہ سر ڈھانک دیا جائے اور پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دی جائے۔ اس حدیث میں ہجرت، اخلاص، شہادت اور سادہ کفن کا ذکر ہے۔ یہ الفاظ دل کو آخرت کی طرف متوجہ کرتے ہیں، مگر وضاحت متن ہی کے اندر رہتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اللہ کے لیے ہجرت کی۔
  • مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے کفن کے لیے صرف ایک چادر ملی۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے سر ڈھانکنے اور پاؤں پر اذخر رکھنے کی ہدایت دی۔
  • حدیث میں دنیا میں عمل کا پھل نہ پانے والے صحابہ کا ذکر ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں