صحیح بخاری حدیث ۱۲۷۵ - نیکیوں کا بدلہ دنیا میں ملنے کا خوف

زہد کی حدیث: مصعب بن عمیر کا کفن اور دنیا کا خوف

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۲۷۵

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ إِبْرَاهِيمَ ، " أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ بِطَعَامٍ وَكَانَ صَائِمًا , فَقَالَ : قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي كُفِّنَ فِي بُرْدَةٍ إِنْ غُطِّيَ رَأْسُهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ وَإِنْ غُطِّيَ رِجْلَاهُ بَدَا رَأْسُهُ ، وَأُرَاهُ قَالَ : وَقُتِلَ حَمْزَةُ وَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي ثُمَّ بُسِطَ لَنَا مِنَ الدُّنْيَا مَا بُسِطَ أَوْ , قَالَ : أُعْطِينَا مِنَ الدُّنْيَا مَا أُعْطِينَا وَقَدْ خَشِينَا أَنْ تَكُونَ حَسَنَاتُنَا عُجِّلَتْ لَنَا ، ثُمَّ جَعَلَ يَبْكِي حَتَّى تَرَكَ الطَّعَامَ " .

ابراہیم بن عبدالرحمٰن روایت:

عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے سامنے کھانا حاضر کیا گیا۔ وہ روزہ سے تھے اس وقت انہوں نے فرمایا کہ ہائے! مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ شہید کئے گئے ‘ وہ مجھ سے بہتر تھے۔ لیکن ان کے کفن کے لیے صرف ایک چادر میسر آ سکی کہ اگر اس سے ان کا سر ڈھانکا جاتا تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں ڈھانکے جاتے تو سر کھل جاتا اور میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے یہ بھی فرمایا اور حمزہ رضی اللہ عنہ بھی (اسی طرح) شہید ہوئے وہ بھی مجھ سے اچھے تھے۔ پھر ان کے بعد دنیا کی کشادگی ہمارے لیے خوب ہوئی یا یہ فرمایا کہ دنیا ہمیں بہت دی گئی اور ہمیں تو اس کا ڈر لگتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری نیکیوں کا بدلہ اسی دنیا میں ہم کو مل گیا ہو پھر آپ اس طرح رونے لگے کہ کھانا بھی چھوڑ دیا۔

صحیح بخاری حدیث ۱۲۷۵ کا خلاصہ

اس روایت میں عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ روزے سے تھے۔ جب ان کے سامنے کھانا رکھا گیا تو انہوں نے مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو یاد کیا، جو ان سے بہتر تھے۔ ان کا کفن صرف ایک چادر تھا؛ سر ڈھانکا جاتا تو پاؤں کھل جاتے، پاؤں ڈھانکے جاتے تو سر کھل جاتا۔ پھر انہوں نے حمزہ رضی اللہ عنہ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ بعد میں ہمارے لیے دنیا کشادہ کر دی گئی۔ انہیں خوف ہوا کہ کہیں ہماری نیکیوں کا بدلہ دنیا ہی میں نہ مل گیا ہو۔ پھر وہ اتنا روئے کہ کھانا چھوڑ دیا۔ یہ حدیث دنیا سے بے رغبتی، آخرت کی فکر، اور نعمت ملنے پر اپنا محاسبہ کرنے کی مثال دیتی ہے، مگر متن سے آگے کوئی قطعی دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے نیک ساتھیوں کو یاد رکھتے تھے۔
  • دنیا کی فراخی پر بھی آخرت کی فکر غالب رہ سکتی ہے۔
  • مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے کفن کی تنگی کا ذکر آیا ہے۔
  • عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کھانا چھوڑ دیا، کیونکہ وہ بہت متاثر ہوئے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں